کراچی: پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدی وصولیاں مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، لیکن اسی عرصے میں ابتدائی سطح کی بعض ملازمتوں اور فری لانس کام کی طلب میں نمایاں کمی رپورٹ ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد کے مطابق برآمدی آمدن ایک سال پہلے کے 3.814 ارب ڈالر سے تقریباً 21 فیصد بڑھی، جبکہ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے جائزے میں بڑی ٹیک کمپنیوں کی انٹری لیول بھرتی تقریباً 25 فیصد کم بتائی گئی۔
آئی ٹی و آئی ٹی سے متعلق خدمات اب پاکستان کی خدماتی برآمدات کا سب سے بڑا زمرہ ہیں اور ان کا حصہ مجموعی خدماتی آمدن کے قریب نصف بتایا گیا ہے۔ اس کے باوجود صنعت سرکاری 5 ارب ڈالر کے سالانہ ہدف سے تقریباً 40 کروڑ ڈالر پیچھے رہی۔ حکومت کے اُڑان پاکستان منصوبے میں مالی سال 2028-29 تک اس آمدن کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف موجود ہے، لیکن اس منزل کے لیے موجودہ سالانہ رفتار، ہنرمند افرادی قوت اور زیادہ قدر والے منصوبوں میں مسلسل اضافہ درکار ہوگا۔
پاشا کے حوالے سے رپورٹ ہونے والے روزگار اعداد کے مطابق 22 سے 25 سال عمر کے ڈویلپرز کی ملازمتوں میں 2024 کے بعد تقریباً 20 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ابتدائی سطح کی فری لانس فہرستوں کا حصہ مارکیٹ کے قریب 15 فیصد سے گھٹ کر 9 فیصد سے کم بتایا گیا، جبکہ بنیادی تحریر اور ترجمہ کے کام میں سالانہ 32 فیصد کمی رپورٹ ہوئی۔ یہ مختلف پلیٹ فارمز اور بڑی کمپنیوں کے رجحانات ہیں؛ انہیں پاکستان کے ہر ٹیک کاروبار یا تمام نوجوان ملازمین کا مکمل مردم شماری نما نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
صنعتی ماہرین اس بظاہر تضاد کی ایک وجہ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کو قرار دیتے ہیں۔ نیشنل انکیوبیشن سینٹر کراچی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سید اظفر حسین کے مطابق معمول کی کوڈنگ، معاونت اور ترسیلی کام کم افراد سے انجام پانے لگے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا انجینئرنگ کی مہارتوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ مواقع کے مکمل خاتمے سے زیادہ مطلوبہ ہنر کی تیز تبدیلی ہے۔
رپورٹ میں دو سافٹ ویئر کمپنیوں کی مثالیں بھی دی گئی ہیں: ایک اسلام آباد کمپنی نے معمول کے کام خودکار بنانے کے بعد ڈیلیوری سے متعلق اسامیوں میں 80 فیصد تک کمی بتائی، جبکہ کراچی کی ایک ویب ڈیویلپمنٹ کمپنی کے عملے کی تعداد تقریباً 150 سے کم ہو کر 35 رہنے کی اطلاع ہے۔ یہ انفرادی کمپنیوں کے رپورٹ شدہ فیصلے ہیں اور ان سے پوری صنعت میں اتنی ہی شرح کی چھانٹی اخذ نہیں کی جا سکتی۔
فری لانسرز کی وصولیوں کا حجم تقریباً 1.6 ارب ڈالر، یعنی مجموعی آئی ٹی برآمدی آمدن کا قریب ایک چوتھائی، بتایا گیا ہے۔ جافر بزنس سسٹمز کے چیف ایگزیکٹو وقارالاسلام نے برآمدی اعداد کی ساخت اور بعض ملازمین کے ٹیکس وجوہ سے خود کو فری لانسر ظاہر کرنے کے امکان پر سوال اٹھایا۔ یہ صنعت کے ایک عہدیدار کا تجزیہ ہے، اسٹیٹ بینک کے مجموعی وصولی اعداد کو باضابطہ طور پر غلط قرار دینے والی سرکاری finding نہیں۔
تازہ تصویر یہ دکھاتی ہے کہ برآمدی آمدن اور ملازمتوں کی تعداد لازماً ایک ہی رفتار سے نہیں بڑھتیں۔ زیادہ قیمت والے منصوبے، بہتر فی کارکن پیداوار اور خودکار نظام برآمدی ڈالر بڑھا سکتے ہیں، جبکہ معمول کی ابتدائی اسامیوں کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف نئی مہارتوں کی تربیت، یونیورسٹی نصاب کی تجدید اور کمپنیوں میں جونیئر افراد کے لیے سیکھنے کے راستے نہ بنے تو مستقبل کے سینئر ماہرین کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
آئندہ پیش رفت جانچنے کے لیے صرف برآمدی رقم نہیں بلکہ مستقل ملازمتیں، اجرتیں، نئے گریجویٹس کی بھرتی، فری لانس کام کی نوعیت اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی نئی اسامیوں کے قابلِ تقابل اعداد بھی درکار ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان نے آئی ٹی برآمدات کا نیا ریکارڈ بنایا، مگر صنعت کے بعض حصوں میں ابتدائی روزگار کا دباؤ اسی وقت بڑھا ہے۔




