اسلام آباد: پارلیمانی ارکان نے مجوزہ واپڈا سکیورٹی فورس ایکٹ 2026 میں شامل گرفتاری اور حراست کے اختیارات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مسودے میں واپڈا کی تنصیبات یا منصوبوں کے ایک کلومیٹر دائرے کے اندر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو بعض حالات میں افراد کو حراست میں لینے کا اختیار دینے کی تجویز شامل ہے۔

ارکان کی تشویش کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی ادارہ جاتی سکیورٹی فورس کو پولیس سے ملتے جلتے اختیارات دیتے وقت دائرہ اختیار، قانونی نگرانی، شہری آزادیوں اور جواب دہی کے اصول واضح ہونے چاہئیں۔ مجوزہ قانون ابھی قانون سازی کے عمل کا حصہ ہے، اس لیے اس میں شامل دفعات کو نافذ شدہ اختیار سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ پارلیمانی جانچ کے دوران متن میں تبدیلی، وضاحت یا اضافی حفاظتی شرائط شامل کی جا سکتی ہیں۔

واپڈا ملک بھر میں اہم آبی اور بجلی کے منصوبوں اور تنصیبات سے وابستہ ہے، جن کی حفاظت قومی انفراسٹرکچر کے تناظر میں اہم سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جانب کسی شخص کو روکنے یا حراست میں لینے کا اختیار بنیادی حقوق اور فوجداری انصاف کے نظام سے جڑا معاملہ ہے۔ اسی لیے قانون سازوں نے مجوزہ فورس کے اختیارات اور عام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کے درمیان حد بندی پر توجہ دی ہے۔

رپورٹ میں سامنے آنے والی بحث سے واضح ہے کہ پارلیمان کے سامنے اصل سوال صرف تنصیبات کی سکیورٹی بڑھانا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اس مقصد کے لیے دیے جانے والے اختیارات کس قانونی نگرانی کے تابع ہوں گے۔ اگر بل منظور ہونے کے مراحل میں آگے بڑھتا ہے تو حتمی متن ہی یہ طے کرے گا کہ فورس کو کس نوعیت کے اختیارات حاصل ہوں گے، کن حالات میں استعمال ہو سکیں گے اور زیر حراست فرد کو کس طریقہ کار کے تحت متعلقہ حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ فی الحال معاملہ ایک مجوزہ قانون اور اس پر اٹھائے گئے پارلیمانی تحفظات تک محدود ہے۔