لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں سابق یونیورسٹی لیکچرر جنید حفیظ کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے استغاثہ سے الیکٹرانک شواہد کی قانونی قابل قبولیت پر دلائل طلب کر لیے ہیں۔ جنید حفیظ کو 2019 میں ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی اور ان کی اپیل 2020 سے زیر التوا ہے۔

ڈان کے مطابق جسٹس صادق محمود خرم اور جسٹس محمد جواد ظفر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپیل کی سماعت کی۔ شکایت کنندہ کے وکیل اطہر شاہ بخاری اور جنید حفیظ کے وکیل اسد جمال عدالت میں پیش ہوئے۔ بینچ نے ابتدا میں نوٹ کیا کہ اپیل ملتان بینچ سے لاہور کی پرنسپل سیٹ منتقل ہونے کے بعد فریقین کو باضابطہ نوٹس جاری نہیں ہوئے تھے۔

عدالت نے سماعت کے دوران اپیل پر نوٹس جاری کیے، جنہیں استغاثہ اور شکایت کنندہ کے وکلا نے عدالت میں وصول کیا۔ بینچ نے کہا کہ وہ مقدمے میں پیش کیے گئے الیکٹرانک شواہد اور جنید حفیظ سے منسوب فیس بک پیج کی قانونی حیثیت اور قابل قبولیت پر استغاثہ کا موقف سننا چاہتا ہے۔ یہ مرحلہ اپیل کی سماعت کا حصہ ہے اور عدالت نے ابھی سزا برقرار رکھنے یا ختم کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

عدالت نے ابتدا میں سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا عندیہ دیا، تاہم شکایت کنندہ کے وکیل نے دلائل کی تیاری کے لیے مزید وقت مانگا۔ اس پر بینچ نے کہا کہ آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔

جنید حفیظ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی ادب میں وزٹنگ لیکچرر رہے ہیں۔ انہیں مارچ 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا اور فیس بک پر مبینہ مواد سے متعلق مقدمے کا ٹرائل 2014 میں شروع ہوا۔ ملتان کی ضلع و سیشن عدالت نے 21 دسمبر 2019 کو انہیں توہین مذہب کے الزامات میں سزائے موت سنائی، جس کے خلاف انہوں نے اگلے سال اپیل دائر کی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران سکیورٹی سے متعلق سنگین واقعات بھی پیش آئے۔ جنید حفیظ کے ایک سابق وکیل راشد رحمان کو مئی 2014 میں ان کے دفتر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے انہیں ملنے والی دھمکیوں پر تشویش ظاہر کی تھی۔ بعد میں ایک اور وکیل کو بھی مقدمے سے الگ ہونے کی دھمکی موصول ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

حالیہ سماعت کا مرکزی قانونی سوال الیکٹرانک مواد کی نسبت، اس کی صداقت اور عدالت میں اس کی قابل قبولیت سے متعلق ہے۔ اپیل میں حتمی نتیجہ دونوں جانب کے دلائل، مقدمے کے ریکارڈ اور متعلقہ قانونی اصولوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔