لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹر محمد رضوان سے متعلق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی انکوائری میں ایجنسی کو انہیں ہراساں یا غیر ضروری طور پر پریشان نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ رضوان کو تحقیقات میں تعاون کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے انکوائری اور طلبی نوٹس کو چیلنج کرنے والی درخواست مسترد کر دی۔
معاملہ آن لائن بیٹنگ سے متعلق ایک انکوائری کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ عدالتی حکم کا مطلب یہ نہیں کہ رضوان کے خلاف کسی الزام کا جرم ثابت ہو گیا ہے؛ کارروائی ابھی انکوائری کی نوعیت رکھتی ہے۔ عدالت نے ایک طرف تحقیقاتی ادارے کو قانونی دائرے میں کام جاری رکھنے کی اجازت دی اور دوسری طرف درخواست گزار کو غیر ضروری ہراسانی سے تحفظ کی ہدایت کی۔
این سی سی آئی اے سائبر اور آن لائن سرگرمیوں سے متعلق معاملات کی تحقیقات کرنے والا وفاقی ادارہ ہے۔ کسی شخص کو انکوائری کے لیے طلب کیا جانا بذات خود فرد کے مجرم ہونے کا تعین نہیں کرتا، اور حتمی قانونی حیثیت شواہد، تحقیقات اور اگر ضروری ہو تو بعد کی عدالتی کارروائی سے طے ہوتی ہے۔
رضوان پاکستان کرکٹ کے نمایاں کھلاڑیوں میں شامل ہیں، اس لیے مقدمے نے کھیلوں کے حلقوں میں بھی توجہ حاصل کی ہے۔ تاہم عدالتی کارروائی کا بنیادی موضوع تحقیقاتی اختیار، طلبی نوٹس اور انکوائری کے دوران قانونی تحفظ ہے، نہ کہ کرکٹ کی کارکردگی۔
عدالت کی ہدایت کے بعد انکوائری قانون کے مطابق جاری رہ سکتی ہے اور رضوان سے تعاون کی توقع کی گئی ہے۔ آئندہ پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ تحقیقاتی ادارہ کیا مواد جمع کرتا ہے اور آیا معاملہ انکوائری سے آگے کسی رسمی قانونی کارروائی تک پہنچتا ہے یا نہیں۔

