لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کی ان کی دونوں بیٹیوں سے منگل کو ملاقات کرائی جائے۔ عدالت نے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی حراست کے احکامات میں توسیع کے معاملے پر لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو 4 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا بھی حکم دیا ہے۔

ڈان کے مطابق جسٹس عابہر گل خان نے یہ ہدایات عمران خان کی بہنوں نورین نیازی، عظمیٰ خان اور علیمہ خانم کی حراست میں توسیع کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیں۔ تینوں خواتین کو ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جب پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔ ابتدائی 30 روزہ مدت ختم ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ نورین اور عظمیٰ کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو بتایا کہ نورین کی دونوں بیٹیاں اور وکلا ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ وکیل نے ان کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملاقات کے بغیر ان کی حقیقی حالت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ نورین کو اس سے قبل کوٹ لکھپت جیل کے ڈاکٹروں کی سفارش پر طبیعت خراب ہونے کے بعد پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا اور بعد میں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

صوبائی لاء افسر نے عدالت کو بتایا کہ جیل حکام کو ملاقات کی اجازت دینے پر اعتراض نہیں۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے پیش رپورٹ کے مطابق نورین کو علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا تھا اور ڈاکٹروں کے مشورے پر واپس جیل منتقل کیا گیا، جبکہ ان کی بیٹی ہاجرہ نیازی کو 29 اکتوبر کو اسپتال میں ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے اس کے بعد جیل حکام کو دونوں بیٹیوں سے ملاقات کرانے کی ہدایت جاری کی۔

درخواست گزاروں نے حراست میں تازہ توسیع کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ ان کے وکیل کا مؤقف ہے کہ ابتدائی 30 روزہ مدت کے بعد لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری توسیعی نوٹیفکیشن قانون کے مطابق نہیں۔ یہ درخواست گزاروں کا قانونی مؤقف ہے اور عدالت نے ابھی حراست کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

عدالت نے علیمہ خان کی تازہ حراست کے خلاف درخواست کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی، جبکہ نورین اور عظمیٰ کے معاملے میں ڈپٹی کمشنر سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اس مرحلے پر عدالتی کارروائی جاری ہے اور حراست کے احکامات کی قانونی حیثیت، وجوہات اور ان میں توسیع کے جواز کا فیصلہ آئندہ سماعتوں اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہوگا۔