کراچی: سپرہائی وے کے قریب فقیرہ گوٹھ میں ایک نوجوان اور شادی شدہ خاتون کو گھر کے اندر فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش میں اسے نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ قرار دینے کا شبہ ظاہر کیا ہے، تاہم یہ پولیس کی ابتدائی رائے ہے اور کسی ملزم کی ذمہ داری عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئی۔
ڈان کے مطابق مقتولین کی شناخت 23 سالہ مہر علی اور 22 سالہ جمیلہ کے نام سے ہوئی، جو ایوب نامی شخص کی اہلیہ تھیں۔ پولیس اور ریسکیو حکام نے بتایا کہ دونوں کو سائٹ سپرہائی وے انڈسٹریل ایریا تھانے کی حدود میں واقع کچی آبادی فقیرہ گوٹھ کے ایک گھر میں گولیاں ماری گئیں۔
متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او محمد نواز نے کہا کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر دوہرے قتل میں خاتون کے قریبی رشتہ داروں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں مقتولین کا اصل تعلق بلوچستان سے تھا۔ لاشوں کو قانونی اور طبی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس نے مہر علی کے والد کی مدعیت میں خاتون کے اہل خانہ کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302، جو قتل عمد سے متعلق ہے، اور دفعہ 34، جو مشترکہ نیت سے متعلق ہے، کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ مقدمہ درج ہونا الزام کی قانونی کارروائی کا آغاز ہے؛ اس سے کسی نامزد یا مشتبہ شخص کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔ تفتیش میں شواہد، گواہوں کے بیانات اور دیگر مواد کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔
نام نہاد غیرت کے نام پر قتل پاکستان میں ایک سنگین فوجداری اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ ایسے واقعات میں خاندانی یا سماجی تصورات کو قتل کا جواز نہیں سمجھا جا سکتا اور قانون کے تحت قتل کی ذمہ داری کا فیصلہ ثبوت اور عدالتی عمل کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس واقعے میں بھی پولیس نے محرک کے بارے میں شبہ ظاہر کیا ہے، مگر حتمی نتیجہ تفتیش اور عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے شواہد سے مشروط ہوگا۔
دستیاب رپورٹ میں حملہ آوروں کی گرفتاری یا اسلحے کی برآمدگی کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے موجودہ طور پر تصدیق شدہ معلومات دو افراد کی ہلاکت، پولیس کی ابتدائی تفتیشی سمت، لاشوں کی طبی قانونی کارروائی اور مقدمے کے اندراج تک محدود ہیں۔ مزید پیش رفت میں ملزمان کی شناخت، گرفتاریوں اور تفتیشی شواہد کی تفصیل اہم ہوگی۔

