فیصل آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے فیصل آباد–پنڈی بھٹیاں ایم فور موٹروے کے توسیعی منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ 53 کلومیٹر طویل حصے کو چار سے چھ لین میں تبدیل کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے اور حکومت اسے نئے سال کے آغاز تک مکمل کرنا چاہتی ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر نے کمال پور انٹرچینج کے دورے کے دوران تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو افرادی قوت اور مشینری بڑھانے کی ہدایت کی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق عبدالعلیم خان نے کہا کہ فیصل آباد کے شہریوں کا موٹروے کی گنجائش بڑھانے کا مطالبہ طویل عرصے سے موجود تھا۔ منصوبے کے تحت موجودہ چار لین والے حصے کو چھ لین کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی، سفر میں سہولت اور سڑک پر حفاظت بہتر بنائی جا سکے۔ وزیر نے واضح کیا کہ تیز رفتار تکمیل کے ساتھ تعمیراتی معیار پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کے لیے مالی وسائل نیشنل ہائی وے اتھارٹی اپنے ذرائع سے فراہم کر رہی ہے۔ تعمیراتی کام کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور این ایل سی سمیت مختلف تعمیراتی ادارے اس پر کام کر رہے ہیں۔ وزیر مواصلات نے حکام سے کہا کہ مقررہ مدت کے اندر کام مکمل کرنے کے لیے مشینری اور افرادی قوت کی تعداد بڑھائی جائے اور پیش رفت کی مسلسل نگرانی کی جائے۔

منصوبے میں صرف اضافی لین شامل کرنا ہی مقصود نہیں۔ وزارت کے مطابق موٹروے کے دونوں اطراف شجرکاری، مرکزی حصے میں گرین بیلٹس، کھجور کے درخت، بہتر روشنی اور مسافروں کے لیے جدید ریسٹ ایریاز بھی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ عبدالعلیم خان نے ریسٹ ایریاز کے ڈیزائن ایک ہفتے میں حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی کی۔

وزیر نے کہا کہ توسیع سے فیصل آباد اور پنڈی بھٹیاں کے درمیان آمدورفت زیادہ محفوظ اور روان ہونے کی توقع ہے اور ٹریفک حادثات کے خطرات کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ تاہم منصوبے کے حقیقی فوائد کا انحصار بروقت تعمیر، معیار کی نگرانی اور تکمیل کے بعد مؤثر دیکھ بھال پر ہوگا۔ سرکاری اعلامیے میں منصوبے کی مکمل مالی لاگت کی نئی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس حوالے سے کوئی غیر مصدقہ تخمینہ شامل نہیں کیا گیا۔