اسلام آباد/کوئٹہ: نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسداد پولیو نے خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں رواں سال پاکستان کا آٹھواں پولیو کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ڈان کے مطابق متاثرہ بچی کی عمر 13 ماہ ہے اور اس کا تعلق تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جانباز-بی سے ہے۔ یہ رواں سال ضلع خیبر سے سامنے آنے والا دوسرا جبکہ خیبر پختونخوا سے چھٹا کیس ہے۔
پولیو پروگرام کے ایک عہدیدار کے مطابق نئے کیس نے ایک بار پھر ہر اہل بچے تک ویکسین پہنچانے کی ضرورت واضح کی ہے۔ حکام نے والدین سے کہا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو جاری اور آئندہ مہمات میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائے جائیں، خواہ انہیں پہلے بھی ویکسین دی جا چکی ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر وائلڈ پولیو وائرس کی منتقلی میں اس سال کمی آئی ہے، تاہم پشاور بلاک، جس میں پشاور اور خیبر اضلاع شامل ہیں، کے ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی سامنے آتی رہی ہے۔ اس صورتحال کا مطلب ہے کہ وائرس کی مقامی گردش مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور بچوں کے لیے خطرہ برقرار ہے۔ پاکستان پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو نے نئے کیس کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور مزید منتقلی روکنے کے لیے ہدفی ویکسینیشن اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری مضبوط بنانے سمیت اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسی پس منظر میں 2 نومبر سے 8 نومبر تک نئی ذیلی قومی پولیو مہم شروع کی گئی ہے جس کا ہدف ملک کے 97 اضلاع میں تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو ویکسین دینا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان 2026 میں اس سے پہلے چار بڑی مہمات کر چکا ہے، جن میں مجموعی طور پر ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ بچوں کو مختلف ادوار میں ویکسین دی گئی۔ ستمبر کی حالیہ ذیلی قومی مہم میں دو کروڑ 93 لاکھ سے زیادہ بچوں تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی تھی۔
بلوچستان میں نئی مہم کے دوران 31 اضلاع میں 22 لاکھ سے زیادہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق 8,888 ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جن میں گھر گھر جانے والی ٹیموں کے ساتھ 583 مقررہ مراکز اور 397 ٹرانزٹ پوائنٹ ٹیمیں بھی شامل ہیں۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ نومبر 2024 کے بعد بلوچستان میں کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا، لیکن سرحد پار وائرس کی گردش کے باعث خطرہ بدستور موجود ہے۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں جہاں وائلڈ پولیو وائرس کی مقامی منتقلی اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ نئے کیس کی تصدیق کسی مہم کی ناکامی کا حتمی نتیجہ نہیں بلکہ وائرس کی جاری موجودگی کا ثبوت ہے؛ اسی لیے حکام مسلسل ویکسینیشن، ماحولیاتی نگرانی اور چھوٹ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی کو بنیادی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔

