لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی 30 روزہ حراست کے احکامات فوری طور پر معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، تاہم عدالت نے پنجاب حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس ابہر گل خان نے ان درخواستوں پر سماعت کی جن میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت جاری حراستی احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک حراستی نوٹیفکیشن فوری معطل کیے جائیں، لیکن عدالت نے اس مرحلے پر عبوری ریلیف دینے سے گریز کیا اور متعلقہ فریقین سے رپورٹس اور تحریری جواب مانگ لیا۔
دستیاب عدالتی اور میڈیا ریکارڈ کے مطابق نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو 21 ستمبر کو 30 دن کے لیے حراست میں لینے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، جس کے بعد انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ ان سے ایک روز قبل ان کی بہن علیمہ خان کو بھی اسی نوعیت کے قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ اقدامات تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو مجوزہ ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ سے قبل کیے گئے۔
درخواست گزاروں کے وکلا کا مؤقف تھا کہ حراستی احکامات قانونی تقاضوں اور دستیاب حقائق کے مطابق نہیں اور ان کی موکلان کے خلاف ایسی مخصوص بنیاد سامنے نہیں رکھی گئی جو پیشگی حراست کو جواز فراہم کرے۔ دوسری جانب حکومتی احکامات پولیس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہیں جن میں عوامی نظم و امن اور ماضی کے احتجاجی واقعات سے متعلق خدشات بیان کیے گئے ہیں۔ ان الزامات اور حکومتی جواز کی عدالتی جانچ ابھی جاری ہے اور عدالت نے فی الحال ان پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
عدالت کا موجودہ حکم صرف فوری معطلی کی درخواست تک محدود ہے۔ حراستی احکامات کی قانونی حیثیت، درخواستوں کے قابل سماعت ہونے اور فریقین کے دلائل پر حتمی فیصلہ بعد کی سماعت میں کیا جائے گا۔

