لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے کیمرہ اور مائیکروفون سے لیس اسمارٹ چشموں کی پاکستان میں مبینہ طور پر غیر منظم درآمد اور فروخت کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی درخواست پر وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فریقین سے 8 اکتوبر تک جواب طلب کیا ہے۔
ڈان کے مطابق درخواست شہری حسنین العابدین نے دائر کی ہے اور ان کے وکیل شہرام ساقی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ Ray-Ban Meta اور اسی نوعیت کے کیمرہ سے لیس اسمارٹ گلاسز عام چشموں جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن پہننے والا اپنے سامنے موجود لوگوں کی تصویر، ویڈیو یا آواز ریکارڈ کر سکتا ہے اور بعض صورتوں میں لائیو اسٹریم بھی کر سکتا ہے۔ درخواست گزار نے اس بنیاد پر پرائیویسی، وقار اور سکیورٹی سے متعلق خدشات اٹھائے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایسی ڈیوائسز موبائل فون سے مختلف نوعیت رکھتی ہیں کیونکہ سامنے موجود فرد کے لیے یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوتا کہ ریکارڈنگ ہو رہی ہے۔ وکیل نے آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر محدود استعمال شہریوں کی آزادی، وقار اور نجی زندگی کے حقوق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ موقف درخواست گزار کا قانونی دعویٰ ہے؛ عدالت نے ابھی اس دعوے کی حتمی توثیق یا تردید نہیں کی۔
درخواست گزار کے مطابق میٹا نے پاکستان کو باضابطہ مارکیٹ کے طور پر درج نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود ایسے چشمے آن لائن اور لاہور کی دکانوں، بشمول حافظ سینٹر، میں فروخت ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ درخواست میں بیرون ملک بعض ریگولیٹرز کی جانب سے اٹھائے گئے پرائیویسی خدشات اور کچھ عدالتی عمارتوں میں اسمارٹ گلاسز کے استعمال پر پابندیوں کی مثالیں بھی دی گئیں۔
عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ غیر محدود استعمال کو آئینی حقوق سے متصادم قرار دیا جائے، درآمدات اور کسٹمز کلیئرنس پر ضابطہ بنایا جائے، پی ٹی اے کی منظوریوں کا جائزہ لیا جائے، عدالتوں، ہوائی اڈوں اور سرکاری دفاتر میں ایسے آلات کے استعمال پر پابندی پر غور کیا جائے اور سائبر کرائم سے متعلق حکام کو شکایات کی تفصیل سامنے لانے کی ہدایت دی جائے۔ تاہم یہ تمام نکات درخواست گزار کی استدعائیں ہیں، عدالتی احکامات نہیں۔
موجودہ مرحلے پر لاہور ہائی کورٹ نے صرف نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ہے۔ اسمارٹ چشموں کی فروخت، درآمد یا استعمال پر کسی عمومی پابندی کا فیصلہ نہیں ہوا۔ آئندہ سماعت میں وفاقی اداروں کے جوابات کے بعد عدالت یہ طے کرے گی کہ درخواست کے قانونی اور ریگولیٹری پہلوؤں پر مزید کارروائی کس شکل میں آگے بڑھے گی۔

