لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے متحدہ عرب امارات میں زیر حراست دو پاکستانی شہریوں سے متعلق عدالتی حکم پر مبینہ عدم عمل درآمد کے معاملے میں سیکریٹری خارجہ عاصم افتخار کو دو الگ توہین عدالت کی درخواستوں پر نوٹس جاری کردیے ہیں۔ دونوں درخواستیں پی ٹی آئی سے وابستہ پاکستانی شہریوں سید سلمان رضا زیدی اور محمد جنید جہانگیر کے معاملے سے متعلق ہیں۔
عدالت نے 14 ستمبر کو سیکریٹری خارجہ کو ہدایت کی تھی کہ دونوں شہریوں کی حراست سے متعلق پیش کی گئی نمائندگیوں کو 15 دن کے اندر قانون کے مطابق نمٹایا جائے۔ تازہ درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود عدالتی حکم پر مطلوبہ انداز میں عمل نہیں ہوا، جس پر توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد سیکریٹری خارجہ کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ نوٹس کا اجرا کسی فریق کے خلاف توہین عدالت ثابت ہونے یا حتمی عدالتی نتیجے کے مترادف نہیں؛ عدالت اب سرکاری مؤقف اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد طے کرے گی کہ سابق حکم کی تعمیل ہوئی یا نہیں اور مزید کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔
درخواست گزاروں کا معاملہ بیرون ملک پاکستانی شہریوں کے قونصلر تحفظ اور پاکستانی حکام کی ذمہ داریوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ کسی دوسرے ملک میں حراست کی صورت میں پاکستانی سفارتی مشن عام طور پر مقامی قوانین اور میزبان حکومت کے ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے قونصلر رسائی، معلومات کے حصول اور شہری یا اس کے خاندان سے رابطے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ تاہم رہائی یا قانونی کارروائی کا حتمی اختیار میزبان ملک کے متعلقہ اداروں اور عدالتوں کے پاس ہوتا ہے۔
اس مقدمے میں عدالت کے سامنے بنیادی سوال پاکستانی وزارت خارجہ کے اپنے سابق عدالتی حکم پر عمل درآمد سے متعلق ہے۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا ہے کہ ان کی نمائندگیوں پر مقررہ مدت میں مؤثر فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وزارت خارجہ یا سیکریٹری خارجہ کا تفصیلی جواب سامنے آنے کے بعد ہی اس دعوے کی عدالتی جانچ مکمل ہوسکے گی۔
دونوں زیر حراست افراد کی سیاسی وابستگی کے باعث مقدمہ سیاسی توجہ بھی حاصل کر رہا ہے، لیکن موجودہ عدالتی کارروائی توہین عدالت کی درخواستوں اور سابق حکم کی تعمیل کے محدود قانونی نکتے پر مرکوز ہے۔ زیر حراست افراد کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کسی کارروائی کی نوعیت یا نتیجے سے متعلق غیر مصدقہ دعووں کو عدالتی نوٹس کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔
آئندہ سماعت میں سیکریٹری خارجہ یا وزارت خارجہ کی جانب سے جواب جمع کرائے جانے کی توقع ہے۔ اس جواب اور متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ فیصلہ کرے گی کہ عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے مزید ہدایات یا توہین عدالت سے متعلق کوئی اگلا قدم ضروری ہے یا نہیں۔
