کراچی: سندھ حکومت نے کراچی فش ہاربر میں حالیہ سکیورٹی خدشات کے بعد بندرگاہ کے داخلی نظام، شناخت، نگرانی اور پولیس انتظامات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ہاربر میں آنے والے تمام افراد کی رجسٹریشن لازمی بنائی جائے اور آر ایف آئی ڈی پر مبنی شناختی کارڈ متعارف کرائے جائیں۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں کراچی فش ہاربر کی امن و امان کی صورتحال، بنیادی ڈھانچے، یوٹیلیٹی کنکشنز، مچھلی کی نیلامی، فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے انتظام اور سی فوڈ برآمدات کے ضابطوں کا جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق اس اہم تجارتی مرکز میں روزانہ تقریباً 20 ہزار افراد کی آمدورفت ہوتی ہے، جس کے باعث مؤثر رسائی کنٹرول اور قابل اعتماد شناختی نظام کو ضروری قرار دیا گیا۔
مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کو فشریز ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مشاورت کرکے ہاربر کے لیے الگ پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز پر کام آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔ موجودہ ڈیٹا بیس کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ رجسٹرڈ افراد، ملازمین، تاجروں اور دیگر صارفین کی شناخت اور داخلے کی نگرانی بہتر ہوسکے۔
آر ایف آئی ڈی شناختی نظام کا مقصد ہاربر میں داخل ہونے اور نکلنے والے افراد کا قابل تصدیق ریکارڈ بنانا ہے۔ اس طرح غیر مجاز رسائی کی نشاندہی اور کسی واقعے کی صورت میں نقل و حرکت کی جانچ نسبتاً آسان ہوسکتی ہے۔ تاہم اس نظام کے مؤثر ہونے کے لیے درست رجسٹریشن، آلات کی دیکھ بھال اور ڈیٹا کے تحفظ کے واضح طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔
اجلاس میں تجارتی سرگرمیوں اور برآمدی ضابطوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کراچی فش ہاربر پاکستان کی سمندری خوراک کی صنعت کے اہم مراکز میں شامل ہے، جہاں مچھلی اور دیگر سمندری مصنوعات کی نیلامی، پراسیسنگ اور برآمد سے بڑی تعداد میں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ سکیورٹی یا انتظامی رکاوٹیں مقامی کاروبار کے ساتھ برآمدی سپلائی چین کو بھی متاثر کرسکتی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بندرگاہ پر نظم و ضبط بہتر بنانے اور مبینہ برآمدی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی پر بھی زور دیا۔ اجلاس میں انفراسٹرکچر کی خامیوں اور سہولتوں کی بہتری کو سکیورٹی کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت بیان کی گئی، کیونکہ بے ہنگم ٹریفک، غیر منظم داخلی راستے اور کمزور انتظامی ریکارڈ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
الگ پولیس اسٹیشن اور آر ایف آئی ڈی نظام کے قیام کی ہدایات پر اب متعلقہ محکموں کو عملی منصوبہ، مالی ضرورت اور نفاذ کا طریقہ کار طے کرنا ہوگا۔ ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ رجسٹریشن اور نگرانی کو روزمرہ تجارتی سرگرمی متاثر کیے بغیر کس حد تک مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا ہے۔
