اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات 20 دسمبر 2026 کو کرانے کا اعلان کرتے ہوئے تفصیلی انتخابی شیڈول جاری کردیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ کئی برس سے التوا کا شکار اسلام آباد کے مقامی حکومت انتخابات ایک واضح انتخابی ٹائم لائن میں داخل ہوگئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی 30 اکتوبر سے دستیاب ہوں گے اور امیدوار 2 سے 6 نومبر تک اپنے کاغذات جمع کراسکیں گے۔ امیدواروں کی ابتدائی فہرست 7 نومبر کو جاری کی جائے گی، جبکہ نامزدگی دستاویزات کی جانچ پڑتال 9 سے 13 نومبر تک ہوگی۔

ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں 14 سے 18 نومبر کے دوران دائر کی جاسکیں گی اور ان پر فیصلے 19 سے 23 نومبر تک ہوں گے۔ امیدواروں کی حتمی فہرست 25 نومبر کو جاری ہوگی اور 26 نومبر کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔ پولنگ 20 دسمبر کو صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی، جبکہ نتائج 21 سے 24 دسمبر کے درمیان جاری کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔ شیڈول کے اجرا کے بعد سرکاری افسران کے تبادلوں اور تقرریوں پر بھی پابندیاں نافذ ہوں گی، جبکہ سرکاری ملازمین الیکشن کمیشن کی منظوری کے بغیر چھٹی نہیں لے سکیں گے۔ کمیشن نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ انتخابی دفاتر تعطیلات کے دوران بھی ضروری کام کے لیے فعال رکھے جائیں۔

ضابطۂ اخلاق کے تحت صدر، وزیراعظم، وفاقی وزرا اور گورنرز کو بلدیاتی انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم اراکین پارلیمان، سینیٹرز اور مقامی حکومت کے نمائندے قانون اور ضابطے کی حدود میں انتخابی مہم میں شریک ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سرکاری افسران کو انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش سے بھی خبردار کیا ہے۔

اس سے قبل کمیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ اسلام آباد کے انتخابات 2015 کے مقامی حکومت قانون کے تحت کرائے جائیں گے۔ کمیشن کے مطابق وفاقی حکومت نیا مقامی حکومت قانون اور متعلقہ قواعد بروقت فراہم نہیں کرسکی، جبکہ دارالحکومت میں حلقہ بندیاں متعدد بار اور انتخابی شیڈول بھی کئی مرتبہ جاری ہوچکا ہے۔

تازہ شیڈول اس پہلے فیصلے کا عملی اگلا مرحلہ ہے اور اسے سابقہ عمومی حکم سے الگ واقعہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اب پولنگ کی مخصوص تاریخ، نامزدگیوں، جانچ، اپیلوں، حتمی فہرست اور نتائج کے لیے باقاعدہ تاریخیں مقرر کردی گئی ہیں۔ انتخابی عمل کی تکمیل اب امیدواروں، انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کی جانب سے اس شیڈول پر عمل درآمد سے مشروط ہوگی۔