پشاور: خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری آفس نے صوبے کے تمام انتظامی سیکریٹریوں اور منسلک محکموں کے سربراہان کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ہر جاری سرکاری procurement process کا جامع جائزہ لیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ ہدایت سرکاری سامان کی خریداری، تعمیراتی کاموں کے ٹھیکوں اور مختلف خدمات کے حصول سمیت صوبائی اداروں میں جاری تمام متعلقہ معاملات پر لاگو ہوگی۔

سرکاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ہر خریداری کو متعلقہ محکمے کی حقیقی ضرورت، طے شدہ ترجیحات اور قابل اطلاق قواعد و ضوابط کے مطابق الگ الگ جانچا جائے۔ حکام کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ منصوبے یا خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز حقیقتاً دستیاب ہیں اور کارروائی قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ شفافیت اور عوامی مفاد کو اس مشق کے بنیادی پیمانے قرار دیا گیا ہے۔

ہدایت کا دائرہ صرف نئی منظوریوں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ procurement کے آغاز، جانچ پڑتال، رسمی review اور حتمی منظوری سمیت تمام مراحل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو معاملات پہلے ہی کسی مرحلے تک پہنچ چکے ہیں وہ بھی ازسرنو جانچ کے عمل سے گزر سکتے ہیں اور ان پر مزید کارروائی review کے نتائج سے مشروط ہوگی۔

انتظامی سیکریٹریوں کو اپنے بنیادی محکموں کے علاوہ منسلک directorates اور ان کے تحت کام کرنے والے divisional اور district offices میں بھی اس عمل کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس طرح صوبائی سطح کے ساتھ نچلی انتظامی سطح پر جاری سرکاری خریداریوں کو بھی ایک ہی اصولی فریم ورک میں پرکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مراسلے میں کسی مخصوص procurement کو بے ضابطگی کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا۔ یہ ایک عمومی انتظامی جائزہ ہے جس کا مقصد دستیاب سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال، قانونی تقاضوں کی پابندی اور عوامی مفاد کا تحفظ بتایا گیا ہے۔ کسی انفرادی ٹھیکے یا خریداری کو منسوخ، تبدیل یا جاری رکھنے کا فیصلہ اس کے اپنے ریکارڈ اور review کے نتیجے پر ہوگا۔ صوبائی محکموں کو اب اپنے جاری معاملات کی ضرورت، مالی دستیابی اور قواعد سے مطابقت کی دستاویزی جانچ مکمل کرنا ہوگی۔