پشاور: خیبرپختونخوا میں ڈینگی وائرس کے کیسز میں نمایاں اضافہ جاری ہے اور صوبائی محکمہ صحت کے مطابق اکتوبر کے دوران اب تک 1,510 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ تازہ روزانہ رپورٹ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 99 کیس سامنے آنے کی اطلاع دی گئی ہے۔

محکمہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق کوہاٹ موجودہ وبائی لہر کا سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے، جہاں صرف اکتوبر میں 975 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ پشاور میں اسی عرصے کے دوران 209 کیس سامنے آئے۔ صوبے میں 2026 کے آغاز سے اب تک ڈینگی کے مجموعی مصدقہ کیسز کی تعداد 4,091 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔

صوبے میں اس وقت 144 فعال کیس موجود ہیں۔ ان میں کوہاٹ کے 80، بنوں کے 24، پشاور کے 18، ہنگو کے 9، چارسدہ کے 7، ڈیرہ اسماعیل خان کے 3، نوشہرہ کے 2 اور لکی مروت کا ایک فعال کیس شامل ہے۔ یہ تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ بیماری کا سب سے زیادہ موجودہ بوجھ بھی کوہاٹ میں ہے۔

سال بھر کے اعدادوشمار میں کوہاٹ میں مجموعی طور پر 2,567 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ضلع میں جولائی میں 42، اگست میں 387، ستمبر میں 1,116 اور اکتوبر میں اب تک 975 کیس سامنے آئے۔ پشاور میں سالانہ تعداد 566 تک پہنچ گئی ہے، جن میں اگست کے 75، ستمبر کے 144 اور اکتوبر کے 209 کیس شامل ہیں۔

دیگر اضلاع میں بھی اکتوبر کے دوران انفیکشن رپورٹ ہوئے ہیں۔ بنوں میں 81، چارسدہ میں 37، ہری پور میں 34، ایبٹ آباد میں 21، ہنگو اور نوشہرہ میں 20، 20 جبکہ کرک میں 17 کیس سامنے آئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، باجوڑ، صوابی، لوئر چترال اور دیگر اضلاع میں بھی محدود تعداد میں مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

ماہانہ رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگست کے بعد ڈینگی کے پھیلاؤ میں تیزی آئی۔ صوبے میں جنوری سے مئی تک 115 کیس تھے، جون میں 90، جولائی میں 111، اگست میں 573 اور ستمبر میں 1,692 کیس رپورٹ ہوئے۔ اکتوبر کے 1,510 کیس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیماری کا دباؤ اب بھی بلند سطح پر موجود ہے۔

صحت حکام نے شہریوں کو گھروں، گلیوں اور محلوں میں پانی جمع نہ ہونے دینے، پانی کے برتن ڈھانپ کر رکھنے اور مچھروں کی افزائش کی ممکنہ جگہیں ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بخار، شدید سر درد، جسم یا جوڑوں میں درد اور دیگر مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طبی معائنہ کرانے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہوسکے۔