لاہور: لاہور جمخانہ کلب کے چیئرمین سلمان صدیق نے پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے تسلیم کیا ہے کہ کلب کے زیر استعمال 100 ایکڑ سے زائد قیمتی سرکاری زمین کے لیے 5 ہزار روپے سالانہ کرایہ موجودہ حالات میں ناکافی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سالانہ کرایہ کم از کم ایک کروڑ روپے ہونا چاہیے۔

پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نمبر 6، جس کی صدارت رکن صوبائی اسمبلی سمیع اللہ خان کر رہے ہیں، نے اس معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی سرکاری جائیداد کئی دہائیوں تک معمولی کرایے پر کیوں استعمال ہوتی رہی اور متعلقہ حکومتوں نے زمین کی باقاعدہ مارکیٹ ویلیو، لیز کی شرائط اور عوامی مالی مفاد کا مؤثر جائزہ کیوں نہیں لیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ لاہور جمخانہ کے زیر استعمال زمین کی تخمینی مالیت مختلف اندازوں کے مطابق 76 ارب روپے سے 218 ارب روپے تک ہوسکتی ہے۔ یہ اعداد تخمینے ہیں اور زمین کی حتمی سرکاری یا مارکیٹ قیمت متعلقہ ویلیوایشن کے طریقہ کار سے طے ہوگی، تاہم کمیٹی ارکان نے کہا کہ موجودہ سالانہ کرایہ اثاثے کی ممکنہ قدر کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

کلب کے چیئرمین سلمان صدیق نے انتظامیہ کے دیگر ارکان کے ساتھ کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے اور انکوائری میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی 5 ہزار روپے سالانہ کرایے کی رقم پر حیران ہیں، خاص طور پر اس وقت جب کلب کی مالی حالت ماضی کے مقابلے میں بہتر ہے۔

چیئرمین نے کلب کی 1990 کی دہائی کی مالی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے موجودہ حالات سے فرق بیان کیا اور کہا کہ آج کے دور میں کرایے کا ازسرنو تعین ہونا چاہیے۔ تاہم ان کی ایک کروڑ روپے کی تجویز حتمی سرکاری فیصلہ نہیں؛ لیز کی قانونی شرائط، زمین کی ویلیوایشن اور متعلقہ حکومتی اداروں کی منظوری کے بعد ہی کوئی نئی رقم مقرر ہوسکتی ہے۔

اسمبلی کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ کسی ادارے کی خودمختاری یا تاریخی حیثیت اسے سرکاری اثاثے کے استعمال پر جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔ ان کے مطابق عوامی ملکیت کی زمین سے مناسب مالی واپسی یقینی بنانا اور لیز کی شرائط پر عمل کرانا متعلقہ سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے۔

کمیٹی کی تحقیقات اب اس پہلو پر بھی مرکوز ہیں کہ ماضی میں کن محکموں یا حکام نے لیز کی نگرانی کی، کرایہ کب اور کس بنیاد پر مقرر ہوا اور اسے وقت کے ساتھ کیوں نظرثانی نہیں کیا گیا۔ حتمی سفارشات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ کرایے، لیز یا سرکاری زمین کے انتظام میں کیا تبدیلی تجویز کی جاتی ہے۔