اسلام آباد: حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے تنازع پر مذاکرات کا نیا دور 23 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے بتایا کہ اجلاس کی ترتیب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور ان کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد طے پائی۔ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ حکومت معاشی اور مالیاتی پابندیوں کا حوالہ دیتی رہی ہے۔

لیاقت بلوچ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات بھی مذاکراتی عمل کے دوران متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 23 اکتوبر سے ملک گیر احتجاج دوبارہ شروع کرے گی اور مذاکرات کے ساتھ احتجاج بھی جاری رہے گا۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں عوام کو مؤثر ریلیف ملنا چاہیے اور پیٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم کی جائے۔

جماعت اسلامی نے اگست میں کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں پیٹرولیم لیوی، ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف دھرنے شروع کیے تھے۔ ستمبر کے آغاز میں ملک گیر شٹرڈاؤن کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی نے technical committees بنانے پر اتفاق کیا تاکہ لیوی اور قیمتوں میں کمی کی تجاویز کا جائزہ لیا جا سکے۔ پارٹی نے پہلے مذاکراتی دور میں چھ تجاویز پیش کی تھیں، لیکن بعد کے ادوار میں کوئی حتمی سمجھوتا سامنے نہیں آیا۔

ستمبر میں جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی شروع کیا تھا۔ وزیراعظم کی جانب سے پارٹی قیادت سے رابطے اور ملاقات کی یقین دہانی کے بعد مارچ عارضی طور پر روک دیا گیا، تاہم جماعت اسلامی نے اپنا بنیادی مطالبہ واپس نہیں لیا۔ تازہ اعلان اسی تعطل کے بعد مذاکرات دوبارہ فعال کرنے کی کوشش ہے۔

پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد مالی charge ہے اور صارف کی pump price کا حصہ بنتی ہے۔ جماعت اسلامی اسے مہنگائی اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافے کا ایک سبب قرار دیتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ماضی کے مذاکرات میں آئی ایم ایف پروگرام اور مالیاتی ضروریات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ 23 اکتوبر کا اجلاس ابھی مذاکراتی مرحلہ ہے؛ لیوی ختم کرنے، کم کرنے یا برقرار رکھنے کا کوئی نیا حتمی حکومتی فیصلہ رپورٹ نہیں ہوا۔