لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم قانونی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو کے مقدمے میں سزا یافتہ شخص محض اس بنیاد پر مالی جرمانے سے بری الذمہ نہیں ہو جاتا کہ وہ جرمانہ ادا نہ کرنے کے عوض مقررہ قید کاٹ چکا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس محمد امجد پرویز پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 15 صفحات کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے مہر محمد باقر کی درخواست مسترد کردی، جس میں 20 لاکھ روپے جرمانے کی وصولی روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ عام قوانین میں جرمانے کی وصولی کے لیے موجود چھ سال کی مدتِ تحدید نیب مقدمات پر اسی انداز میں لاگو نہیں ہوتی، کیونکہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 ایک خصوصی قانون ہے اور احتساب مقدمات میں مالی سزاؤں کی وصولی کے لیے اس کی دفعات کو فوقیت حاصل ہے۔ فیصلے کے مطابق متعلقہ رقم کو لینڈ ریونیو کے بقایاجات کی طرح وصول کیا جا سکتا ہے۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کے باعث ایک سال کی قید بھگتنے کے بعد دوبارہ رقم کی وصولی دوہری سزا کے مترادف ہوگی۔ تاہم بینچ نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ عدم ادائیگی کے نتیجے میں قید کاٹنا اصل مالی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتا۔ عدالت کے مطابق بدعنوانی کے مقدمات میں عائد جرمانے کی وصولی قانون کے تحت بدستور قابل نفاذ رہتی ہے، خواہ سزا کو کافی عرصہ گزر چکا ہو۔

لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو 20 لاکھ روپے کے جرمانے کی وصولی کی کارروائی تین ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ اس مخصوص مقدمے کے حقائق اور قومی احتساب آرڈیننس کی تشریح پر مبنی ہے اور اس کا بنیادی قانونی نکتہ مالی جرمانے اور عدم ادائیگی پر قید کو دو الگ ذمہ داریوں کے طور پر دیکھنا ہے۔

اسی رپورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک الگ مقدمے کا بھی ذکر ہے، جس میں نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 کے خلاف درخواست اس بنیاد پر نمٹا دی گئی کہ آرڈیننس اپنی قانونی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو چکا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کی آئینی حیثیت پر رائے دینے کی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ عدالت کے سامنے کوئی زندہ تنازع باقی نہیں رہا تھا۔ دونوں عدالتی معاملات الگ ہیں؛ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ جرمانے کی وصولی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی ختم شدہ ترمیمی آرڈیننس سے متعلق تھی۔