اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری پاکستان اور جرمنی کے درمیان سیاسی، تجارتی اور اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے تین روزہ سرکاری دورے پر جرمنی روانہ ہوگئے ہیں۔ ایوان صدر کے مطابق یہ دورہ جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر کی دعوت پر ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر اعلیٰ سطح کے تبادلوں کا حصہ ہے۔
ایوان صدر کے ترجمان کے مطابق صدر زرداری برلن میں اپنے جرمن ہم منصب کے علاوہ جرمنی کی سینئر قیادت اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ بات چیت میں پاکستان اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلو زیر غور آئیں گے، تاہم خاص توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے امکانات پر مرکوز رہنے کی توقع ہے۔
سرکاری بیان میں اس دورے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گزشتہ 23 برس میں کسی پاکستانی سربراہ مملکت کا یہ پہلا دورہ جرمنی ہوگا۔ اس بنا پر اسے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں میں ایک نمایاں پیش رفت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ دورے کے دوران ممکنہ کاروباری روابط اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے راستوں پر بھی گفتگو ہوگی۔
پاکستان اور جرمنی رواں سال اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے مختلف سطحوں پر روابط کو اجاگر کر رہے ہیں۔ ایوان صدر کے مطابق موجودہ دورہ تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم دورے سے وابستہ کسی تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری کے حتمی حجم یا نئے منصوبے کی تفصیل سرکاری بیان میں پہلے سے طے شدہ نتیجے کے طور پر نہیں دی گئی۔
جرمنی یورپ کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور پاکستان کے لیے یورپی منڈی، صنعت، ٹیکنالوجی اور ترقیاتی تعاون کے تناظر میں اہم شراکت دار ہے۔ اسی لیے پاکستانی حکام دورے کے اقتصادی پہلو کو نمایاں کر رہے ہیں۔ کاروباری قیادت سے ملاقاتیں نجی شعبے کے روابط اور ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع پر براہ راست تبادلہ خیال کا موقع فراہم کریں گی۔
دورے کے عملی نتائج صدر کی ملاقاتوں اور بعد میں جاری ہونے والے مشترکہ یا سرکاری بیانات سے واضح ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت صدر زرداری کی جرمنی روانگی، تین روزہ دورے کا پروگرام اور دوطرفہ تجارت و اقتصادی تعاون کو مذاکرات کے اہم موضوعات میں شامل کرنا ہے۔
