لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تین بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی حراست کے معاملے پر پنجاب کے ہوم سیکریٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو طلب کر لیا ہے۔ عدالت کے سامنے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تینوں خواتین کے خلاف مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت جاری 30 روزہ حراستی احکامات کی مدت ختم ہو چکی ہے لیکن انہیں رہا نہیں کیا گیا۔
درخواست علیمہ خان کے بیٹے کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں حکام سے تینوں زیر حراست خواتین کو عدالت میں پیش کرنے اور ان کی رہائی کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق حراستی احکامات ستمبر میں جاری کیے گئے تھے اور مقررہ مدت اکتوبر میں مکمل ہوگئی۔ یہ درخواست گزار کا قانونی مؤقف ہے؛ حراست کے جواز اور موجودہ قانونی حیثیت کا حتمی تعین عدالت نے ابھی نہیں کیا۔
تینوں بہنوں کو ستمبر میں پاکستان تحریک انصاف کی مجوزہ احتجاجی سرگرمیوں سے قبل ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ ان حراستوں کے خلاف پہلے بھی لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں زیر سماعت رہی ہیں۔ عدالت نے مختلف مراحل پر پنجاب حکومت اور متعلقہ حکام سے جواب اور جیل میں سہولیات سے متعلق رپورٹس طلب کی تھیں، جبکہ فوری رہائی یا حراستی نوٹیفکیشن معطل کرنے کی بعض سابقہ استدعائیں منظور نہیں کی گئی تھیں۔
تازہ کارروائی کا مرکز یہ سوال ہے کہ 30 روزہ مدت پوری ہونے کے بعد تینوں خواتین کو کس قانونی بنیاد پر جیل میں رکھا گیا ہے۔ عدالت نے اسی نکتے پر متعلقہ اعلیٰ صوبائی اور جیل حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔ درخواست میں بنیادی حقوق اور قانونی تحفظات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر کوئی دوسرا مقدمہ یا قانونی حکم موجود نہیں تو حراست جاری نہیں رکھی جا سکتی۔
معاملہ سیاسی طور پر حساس ہے کیونکہ زیر حراست خواتین سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنیں ہیں اور پی ٹی آئی ان کی گرفتاریوں کو سیاسی دباؤ قرار دیتی رہی ہے۔ دوسری جانب حراستی احکامات انتظامیہ نے امن عامہ کے قانون کے تحت جاری کیے تھے۔ عدالت کی جانب سے حکام کی طلبی کسی فریق کے دعوے کی حتمی توثیق نہیں بلکہ جاری عدالتی جانچ کا حصہ ہے۔
