اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد، ضابطہ کار اور استحقاقات نے ایئرپورٹس پر مسافروں اور ارکان پارلیمان کی تلاشی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایئرپورٹس سکیورٹی فورس کے متعلقہ افسر کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔ کمیٹی نے خاص طور پر کراچی ایئرپورٹ پر پیش آنے والے مبینہ واقعے کا جائزہ لیا اور مسافروں کی عزت و وقار کے ساتھ قانونی تلاشی کے تقاضوں کو واضح کرنے پر زور دیا۔

کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سید وقار مہدی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر جان محمد، دوست علی جیسار، سعدیہ عباسی، پلوشہ محمد زئی خان، ثمینہ ممتاز زہری، بشریٰ انجم بٹ اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ ارکان نے ایئرپورٹ سکیورٹی کے تقاضوں کو تسلیم کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ مسافروں کے ذاتی سامان کی جانچ اور تلاشی کس قانونی اختیار اور کن ضابطوں کے تحت کی جاتی ہے۔

معاملہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے پیش کی گئی تحریک استحقاق کے تناظر میں زیر بحث آیا، جس میں کراچی ایئرپورٹ پر اے ایس ایف اہلکاروں کے مبینہ نامناسب رویے کی شکایت کی گئی تھی۔ کمیٹی نے اس معاملے سے متعلق انکوائری رپورٹ اور سرکاری جواب کا جائزہ لیا، تاہم ارکان نے مزید وضاحت ضروری قرار دی اور متعلقہ افسر کی براہ راست موجودگی میں سوالات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی کے ارکان نے زور دیا کہ سکیورٹی چیکنگ ایک ضروری عمل ہے لیکن اسے واضح قانونی دائرے، مناسب پیشہ ورانہ رویے اور شہریوں کے وقار کے احترام کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔ پارلیمانی فورم پر اٹھنے والے سوالات کا محور یہ رہا کہ سکیورٹی اہلکاروں کے اختیارات کی حدود کیا ہیں، سامان کی جانچ کے لیے کیا تحریری قواعد موجود ہیں اور شکایت کی صورت میں احتساب کا مؤثر طریقہ کیا ہے۔

اے ایس ایف افسر کو طلب کرنے کا فیصلہ کسی اہلکار کے خلاف حتمی قصور ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ کمیٹی اس مرحلے پر شکایت اور دستیاب سرکاری وضاحت کا جائزہ لے رہی ہے اور متعلقہ حکام کا مؤقف سننے کے بعد اپنی سفارشات یا آئندہ کارروائی طے کرے گی۔

یہ معاملہ پاکستان کے بڑے ایئرپورٹس پر سکیورٹی اور شہری حقوق کے درمیان توازن سے متعلق وسیع تر بحث سے جڑا ہے۔ کمیٹی کی کارروائی سے توقع ہے کہ تلاشی کے قانونی جواز، اہلکاروں کی تربیت، شکایات کے ازالے اور مسافروں کے ساتھ رویے کے لیے موجود قواعد مزید واضح کیے جائیں گے۔