اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ سید مصطفی کمال اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ایک وفد نے پاکستان کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر بات چیت کی ہے۔ اجلاس میں خاص طور پر مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، ادویات اور طبی مصنوعات کے ریگولیٹری نظام اور اہم صحت اداروں کی استعداد بڑھانے پر توجہ دی گئی۔
سرکاری معلومات کے مطابق گفتگو میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، مختلف ویکسینز، یونیورسل میڈیکل ریکارڈ، آبادی سے متعلق چیلنجز اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے امور شامل تھے۔ دونوں فریقوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ تکنیکی معاونت کے ذریعے ادارہ جاتی صلاحیت اور صحت کے معیار کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
مقامی ویکسین مینوفیکچرنگ پاکستان کے لیے صحت کے ساتھ معاشی اور سپلائی سکیورٹی کا بھی اہم موضوع ہے۔ درآمدی ویکسین پر زیادہ انحصار کی صورت میں عالمی سپلائی میں خلل، زرمبادلہ کی کمی یا قیمتوں میں اضافہ قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگراموں کو متاثر کر سکتا ہے۔ مقامی تیاری کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تاہم ٹیکنالوجی، معیار کی سخت نگرانی، عالمی ضوابط کی تعمیل، تربیت یافتہ افرادی قوت اور مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہوتی ہے۔
اجلاس میں زیر بحث تعاون کو اس مرحلے پر حتمی مالی معاہدہ یا منظور شدہ منصوبہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ دستیاب سرکاری بیان کے مطابق دونوں جانب سے امکانات اور تکنیکی تعاون کے شعبوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کسی قرض، گرانٹ، سرمایہ کاری کی رقم یا منصوبے کے نفاذ کی حتمی تفصیل متعلقہ منظوریوں اور بعد کے معاہدوں سے واضح ہوگی۔
وفاقی حکومت صحت کے نظام کو جدید بنانے، ادویات اور ویکسین کے معیار کو بہتر کرنے اور طبی معلومات کے نظام کو زیادہ مربوط بنانے کو اصلاحاتی ترجیحات میں شامل کر رہی ہے۔ اے ڈی بی کے ساتھ موجودہ گفتگو انہی اہداف کے لیے ممکنہ تکنیکی شراکت داری کا حصہ ہے۔ اگر تعاون عملی منصوبوں میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کے نتائج مقامی ویکسین پیداوار، ریگولیٹری نگرانی، ادارہ جاتی تربیت اور صحت کی خدمات کے ڈیجیٹل انتظام میں سامنے آ سکتے ہیں۔
