اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر مربوط بین الاقوامی ردعمل کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے میں انسداد دہشت گردی کے موجودہ چیلنجز، علاقائی سلامتی اور عالمی اداروں کے ذریعے تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یورپی یونین نے پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ مشترکہ مؤقف میں دہشت گردی کو سرحدوں سے ماورا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، سرحدی سلامتی اور شدت پسند نیٹ ورکس سے متعلق خدشات عالمی شراکت داروں کے سامنے اٹھاتا رہا ہے۔
دونوں جانب سے یہ اتفاق ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان، میں سکیورٹی چیلنجز پر سیاسی اور انتظامی توجہ بڑھی ہوئی ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے داخلی سکیورٹی اقدامات کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی رابطہ بھی ضروری ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ تعاون میں پالیسی رابطہ، معلوماتی تبادلہ، عالمی فورمز پر سفارتی ہم آہنگی اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے معاملات اہم ہو سکتے ہیں، تاہم تازہ بیان میں کسی مخصوص نئے آپریشنل معاہدے کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات تجارت، ترقیاتی تعاون، انسانی حقوق، حکمرانی اور سکیورٹی سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہیں۔ انسداد دہشت گردی کا موضوع ان تعلقات میں ایک مستقل جزو رہا ہے، کیونکہ یورپی ممالک بھی شدت پسندی، آن لائن انتہا پسندی اور بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرات سے متعلق پاکستان کے ساتھ مکالمہ کرتے ہیں۔
تازہ اتفاق رائے کا عملی اثر آئندہ سفارتی اور تکنیکی رابطوں سے واضح ہوگا۔ فی الحال دونوں فریقوں نے اصولی طور پر تعاون بڑھانے اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کی حمایت کی ہے۔ اس پیش رفت کو کسی نئے دفاعی اتحاد کے بجائے موجودہ پاکستان۔یورپی یونین سکیورٹی تعاون کے تسلسل اور توسیع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
