اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 12 سالہ بچی کو قابل اعتراض تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے اور تصاویر شیئر کرنے کے مقدمے میں دو افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے ہر ایک کو مجموعی طور پر 10 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں مجرموں کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016، یعنی پیکا، کی دفعہ 22 کے تحت سات، سات سال قید اور دس، دس لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔

عدالت نے پیکا کی دفعہ 24 کے تحت بھی دونوں افراد کو مزید تین، تین سال قید اور دس، دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس طرح ہر مجرم کے لیے رپورٹ کردہ مجموعی سزا 10 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ بنتی ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے یہ مقدمہ متاثرہ نابالغ بچی کے والد کی شکایت پر درج کیا تھا۔ مقدمے میں الزام تھا کہ بچی کی قابل اعتراض تصاویر استعمال کرکے اسے بلیک میل کیا گیا اور تصاویر شیئر کی گئیں۔ عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کو مجرم قرار دیا۔

بچوں سے متعلق جنسی نوعیت کے مواد اور سائبر بلیک میلنگ کے مقدمات میں متاثرہ فرد کی شناخت کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے اس رپورٹ میں بچی کی شناخت یا ایسی کوئی تفصیل شامل نہیں کی جا رہی جو اسے شناخت کرنے میں مدد دے سکے۔ عدالتی فیصلے کی رپورٹ میں سزا اور جرمانے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، تاہم مجرموں کی جانب سے کسی ممکنہ اپیل یا اعلیٰ عدالت میں آئندہ کارروائی کے بارے میں فوری طور پر معلومات سامنے نہیں آئیں۔

یہ فیصلہ سائبر جرائم کے ایسے مقدمات میں پیکا کی دفعات کے اطلاق کی ایک مثال ہے جہاں ڈیجیٹل مواد کو ہراساں کرنے یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ سزا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ہے اور قانون کے مطابق متاثرہ فریق یا سزا یافتہ افراد کے لیے دستیاب اپیلیٹ حقوق الگ عدالتی مرحلے کا موضوع ہو سکتے ہیں۔