پشاور: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو ’شدید مجبوری‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن کی بحالی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے صوبے کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔

وزیراعظم نے یہ بات پشاور میں وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں صوبے کی سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزرا اور صوبائی مشیر شریک ہوئے۔ یہ وزیراعظم کا 11 اکتوبر کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کا پہلا دورہ تھا۔

شہباز شریف نے سابق صوبائی حکومت، جس کی قیادت پاکستان تحریک انصاف کے پاس تھی، پر سکیورٹی، پولیس اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں غفلت کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پانچ ہزار پولیس آسامیاں خالی رہیں، سیف سٹی منصوبہ مکمل نہ ہوا اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی تربیت اور جدید سازوسامان پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ حکومتی الزامات ہیں؛ رپورٹ میں ان دعوؤں پر سابق صوبائی حکومت کا تفصیلی جواب شامل نہیں تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن صوبہ ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو اضافی وسائل ملتے رہے اور اس مد میں 800 ارب روپے سے زیادہ فراہم کیے گئے۔ انہوں نے سابق حکومت پر صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے کی مبینہ خوردبرد، کوہستان معاملے میں 37 ارب روپے کی مبینہ بدعنوانی اور پلیسر گولڈ منصوبے کے ٹھیکوں سے متعلق بھی الزامات لگائے۔ ان معاملات کو ثابت شدہ عدالتی نتائج کے بجائے وزیراعظم کے الزامات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

شہباز شریف نے بتایا کہ مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایک مشاورتی کونسل بنائی گئی ہے جو صوبے کے مسائل کے حل میں معاونت کرے گی۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر امن اور بنیادی سہولتوں کی بہتری پر کام کرے گی۔

بعد ازاں قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل سے خطاب میں وزیراعظم نے 160 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے گورنر اور چیف سیکریٹری کو گندم کی ضروری فراہمی یقینی بنانے اور قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کام، پولیس تربیت اور دہشت گردی کے خلاف وسائل بڑھانے پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔ اعلان کردہ رقم کے منصوبہ وار اجرا اور تکمیل کی تفصیلات متعلقہ سرکاری منظوریوں اور عمل درآمد کے مراحل کے ساتھ واضح ہوں گی۔