لاہور: لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل 2026 کی بعض دفعات کو بنیادی حقوق، منصفانہ سماعت اور عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے قانون سازی پر فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بل 31 اگست کو صوبائی اسمبلی سے منظور ہوا تھا اور قانون بننے کے لیے ابھی گورنر پنجاب کی منظوری کا منتظر ہے۔

بار ایسوسی ایشن کے صدر بابر مرتضیٰ خان، نائب صدر سہیل قیصر تارڑ اور فنانس سیکریٹری ملک علی رضا کھوکھر نے مشترکہ بیان میں کہا کہ مجوزہ ترامیم کے ذریعے انتظامی عہدیداروں کو کسی مقدمے کو ”خصوصی سیکیورٹی کیس“ قرار دینے کا نمایاں اختیار مل سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے مقدمات میں جج، پراسیکیوٹر، وکیلِ صفائی، پولیس اہلکار، گواہ اور کارروائی سے وابستہ دیگر افراد کی شناخت خفیہ رکھنے کی گنجائش شامل ہے، جس سے عدالتی عمل کی شفافیت اور فریقین کے حقوق کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ بار کی قیادت نے اپنے اعتراضات میں آئین کے آرٹیکل 10-اے کا حوالہ دیا، جو منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کی ضمانت دیتا ہے۔ بیان میں آرٹیکل 175(3) کے تحت عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ رکھنے کے اصول، نیز آرٹیکل 4 اور 15 سے متعلق قانونی تحفظات اور نقل و حرکت کی آزادی کا ذکر بھی کیا گیا۔ بار کا مؤقف ہے کہ اگر مقدمے کی درجہ بندی اور اس کے انتظامی پہلوؤں پر ایگزیکٹو کا اثر بڑھا تو عدالتی غیر جانب داری کے تاثر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے خفیہ عدالتی کارروائیوں کے ممکنہ دائرے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اس کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات میں گواہوں، ججوں اور تفتیشی عملے کی حفاظت ایک جائز ریاستی ضرورت ہے، لیکن سیکیورٹی اقدامات ایسے نہیں ہونے چاہییں جو ملزم کو اپنے خلاف مواد جاننے، مؤثر دفاع کرنے یا کھلی اور قابلِ نگرانی عدالتی کارروائی کے بنیادی اصول سے محروم کر دیں۔ بار نے خدشہ ظاہر کیا کہ غیر واضح یا وسیع اختیارات سیاسی استعمال اور امتیازی کارروائی کی گنجائش پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ خدشہ بار ایسوسی ایشن کا بیان کردہ مؤقف ہے اور تاحال کسی عدالت نے ان ترامیم کو غیر آئینی قرار نہیں دیا۔

صوبائی حکومت یا بل کے حامیوں کی جانب سے ان مخصوص اعتراضات پر تفصیلی جواب سامنے آنے کی صورت میں قانون کے سیکیورٹی مقاصد اور حفاظتی شقوں کی مزید وضاحت متوقع ہوگی۔ قانون سازی کا موجودہ مرحلہ اس لیے اہم ہے کہ گورنر کی منظوری سے پہلے مسودے کی زبان، اختیار کی حدود اور عدالتی نگرانی سے متعلق سوالات پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار نے مطالبہ کیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے نظام کو مؤثر بنانے کے ساتھ آئینی ضمانتوں، وکیل تک رسائی، آزاد عدالتی فیصلے اور شفاف طریقۂ کار کو واضح طور پر محفوظ کیا جائے۔ بل کی حتمی قانونی حیثیت گورنر کے فیصلے اور بعد کے ممکنہ عدالتی جائزے سے طے ہوگی۔