اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ فیصل آباد اور پنڈی بھٹیاں کے درمیان ایم فور موٹروے کے 53 کلومیٹر حصے کو چار سے چھ لین کرنے کا جاری منصوبہ 2027 کے آغاز تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر نے منصوبے کے دورے کے دوران تعمیراتی پیش رفت کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو کام کی رفتار بڑھانے کی ہدایات دیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق عبدالعلیم خان نے کمال پور انٹرچینج پر جاری کام کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد کے شہریوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا اور حکومت اسے نئے سال کے آغاز تک مکمل کرنا چاہتی ہے۔ منصوبے کے تحت موجودہ موٹروے کو دونوں سمتوں میں مجموعی طور پر چھ لین تک وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کو سنبھالا جا سکے۔
وزیر مواصلات نے حکام کو تعمیراتی مشینری اور افرادی قوت کی تعداد بڑھانے کی ہدایت کی، تاہم ساتھ یہ بھی کہا کہ مقررہ مدت میں تکمیل کے لیے تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے منصوبے کے لیے اپنے وسائل سے فنڈز کا انتظام کیا ہے، اس لیے مالی وسائل کی عدم دستیابی کو تاخیر کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
منصوبے میں صرف اضافی لین شامل کرنا مقصود نہیں بلکہ سڑک کے اطراف شجرکاری، مرکزی حصے میں گرین بیلٹس، آرام گاہوں کی تعمیر اور روشنی کے انتظامات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ وزیر نے متعلقہ اداروں کو آرام گاہوں کے ڈیزائن ایک ہفتے میں حتمی شکل دینے اور پنڈی بھٹیاں فیصل آباد حصے پر مکمل لائٹنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ توسیع سے اس اہم صنعتی اور تجارتی راہداری پر ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، سفر نسبتاً محفوظ ہوگا اور حادثات کے خطرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ فیصل آباد ملک کے بڑے صنعتی مراکز میں شامل ہے اور ایم فور اسے موٹروے نیٹ ورک کے ذریعے وسطی پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں سے ملاتی ہے، اس لیے اس سیکشن کی گنجائش میں اضافہ مال برداری اور مسافر ٹریفک دونوں کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
عبدالعلیم خان نے موٹروے پولیس کے ان اہلکاروں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو فرائض کی انجام دہی کے دوران جان سے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کا ایک مقصد مسافروں کے ساتھ موٹروے پولیس کے لیے بھی زیادہ محفوظ سفری ماحول فراہم کرنا ہے۔
وزیر کی جانب سے 2027 کے آغاز کا ہدف ایک سرکاری ٹائم لائن ہے، تاہم تعمیراتی منصوبوں کی حتمی تکمیل موسم، کام کی رفتار، تکنیکی مسائل اور دیگر عملی عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے۔ اس مرحلے پر منصوبہ زیر تعمیر ہے اور متعلقہ حکام کو مقررہ مدت میں اسے مکمل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
