خیبر: پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحدی گزرگاہ پر متنازع چیک پوسٹ کے معاملے پر دونوں جانب کی فورسز کے درمیان فائرنگ ہوئی، جس کے باعث اہم سرحدی راستہ تقریباً پانچ گھنٹے بند رہا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق تازہ جھڑپ ایسے وقت ہوئی جب پاک افغان سرحد کے دیگر حصوں میں بھی حالیہ دنوں کے دوران کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق طورخم کے قریب افغان جانب سے ایک مقام پر نئی چوکی یا تعمیراتی سرگرمی کے معاملے پر اختلاف پیدا ہوا۔ پاکستانی فورسز نے اس سرگرمی پر اعتراض کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ سرحدی گزرگاہ کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا، جس سے مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ بعد ازاں صورتحال میں نسبتاً بہتری آنے پر راستہ دوبارہ کھول دیا گیا۔
پاکستانی حکام نے سرحدی کشیدگی کے تناظر میں افغان طالبان حکومت کو سخت انتباہ بھی جاری کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرحد اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اگر سرحد پار سے حملے یا اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو ان کا جواب دیا جائے گا۔ رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے کابل کے لیے سخت نتائج کی تنبیہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ دعوے اور انتباہات پاکستانی حکام کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ سرحدی جھڑپوں کے دوران دونوں جانب سے واقعات کی وجوہات اور ذمہ داری کے بارے میں مختلف بیانات سامنے آ سکتے ہیں، اس لیے کسی فریق کے فوجی نقصان یا مخصوص کارروائی سے متعلق غیر مصدقہ دعووں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ دستیاب رپورٹ میں تازہ طورخم واقعے کے نتیجے میں بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
طورخم پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے اہم زمینی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ راستہ نہ صرف عام مسافروں بلکہ دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ چند گھنٹوں کی بندش بھی مال بردار گاڑیوں کی قطاروں، تجارتی اخراجات اور سرحد کے دونوں جانب مقامی کاروبار پر اثر ڈال سکتی ہے۔ طویل بندش کی صورت میں افغانستان جانے والے سامان اور وسطی ایشیا سے منسلک تجارتی سرگرمیوں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔
حالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔ اس بنیادی اختلاف کے ساتھ سرحدی چوکیوں اور تعمیرات کے تنازعات دونوں ملکوں کے تعلقات میں اضافی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔
طورخم گزرگاہ دوبارہ کھلنے سے فوری نقل و حرکت بحال ہوگئی ہے، لیکن حالیہ مسلسل واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ سرحدی صورتحال بدستور حساس ہے۔ مستقل استحکام کے لیے فوجی رابطہ، مقامی سرحدی انتظام اور دونوں حکومتوں کے درمیان سیاسی و سفارتی بات چیت اہم رہے گی۔
