کراچی: پاکستان ریلوے نے ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن کو جدید مسافر سہولیات کے ساتھ اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق منصوبے میں بہتر پارکنگ، بکنگ اور ریزرویشن دفاتر اور مسافروں کے لیے انتظار گاہوں کی بہتری شامل ہے۔ یہ اقدام کراچی میں ریلوے انفراسٹرکچر کو مرحلہ وار جدید بنانے کی کوششوں کا حصہ بتایا گیا ہے۔

پاکستان ریلوے کراچی کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ جمشید عالم نے ڈویژن کے دیگر افسران کے ہمراہ ڈرگ روڈ اسٹیشن کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران موجودہ عمارت، مسافروں کو دستیاب سہولیات اور آپریشنل انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور مجوزہ تزئین و جدید کاری کے ڈیزائن پر متعلقہ افسران سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نے حکام کو ضروری انتظامات جلد مکمل کرنے اور مجوزہ بہتری کے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے پیش رفت کی ہدایت کی۔ دستیاب رپورٹ میں منصوبے کی حتمی لاگت، فنڈنگ کا ذریعہ یا تعمیر مکمل کرنے کی مقررہ تاریخ نہیں دی گئی، اس لیے منصوبے کو اس مرحلے پر عملی تیاری اور انتظامی جائزے کے مرحلے میں قرار دینا مناسب ہے۔

دورے میں صرف مسافر سہولیات نہیں بلکہ اسٹیشن کے اطراف ریلوے پوائنٹس اور لیول کراسنگز کا بھی معائنہ کیا گیا۔ حکام نے آپریشن میں درپیش مشکلات اور انفراسٹرکچر سے متعلق رکاوٹوں کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کے ساتھ ایسے اقدامات پر گفتگو کی جن سے ٹرینوں کی آمدورفت زیادہ محفوظ، ہموار اور بلا تعطل بنائی جا سکے۔

ڈرگ روڈ اسٹیشن کراچی کے شہری ریلوے نیٹ ورک میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور شہر کے مشرقی حصے کے مسافروں کے لیے قابل رسائی اسٹیشنوں میں شامل ہے۔ پارکنگ، ٹکٹنگ اور انتظار کی سہولیات میں بہتری روزمرہ مسافروں کے تجربے کو بہتر بنا سکتی ہے، جبکہ پوائنٹس اور لیول کراسنگز کے آپریشنل مسائل دور کرنے سے ریلوے کی حفاظت اور وقت کی پابندی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر مسافر سہولیات اور پرانے انفراسٹرکچر کی بہتری ایک طویل عرصے سے انتظامی چیلنج رہی ہے۔ کسی بھی اپ گریڈ منصوبے کی عملی افادیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ ڈیزائن کے بعد فنڈنگ، ٹھیکوں، تعمیراتی نگرانی اور دیکھ بھال کے انتظامات کس رفتار اور معیار سے مکمل ہوتے ہیں۔

فی الحال پاکستان ریلوے نے ڈرگ روڈ اسٹیشن کی جدید کاری کا ارادہ اور ابتدائی انتظامی اقدامات واضح کیے ہیں، لیکن مکمل منصوبے کی لاگت اور ٹائم لائن سامنے آنا باقی ہے۔ ان تفصیلات کے اجراء کے بعد ہی منصوبے کے پیمانے اور تکمیل کے قابل پیمائش اہداف کا جامع جائزہ ممکن ہوگا۔