فیصل آباد: اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے سُتھرا پنجاب ایجنسی فیصل آباد میں ماہانہ ایندھن اور گاڑیوں کے کرائے کے اخراجات سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تفتیشی حکام نے بعض ملازمین کی ویڈیو ریکارڈنگ، دستاویزات اور موبائل فونز حاصل کیے ہیں، جبکہ کسی ممکنہ قانونی کارروائی کا فیصلہ انکوائری کے نتائج سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق زیرِتحقیق الزام یہ ہے کہ صفائی آپریشنز کے لیے پنجاب حکومت کو تقریباً 800 گاڑیوں کا بیڑا ظاہر کیا گیا، حالانکہ مبینہ طور پر فیلڈ میں قریب 550 گاڑیاں کام کر رہی تھیں۔ ظاہر کردہ بیڑے کے ایندھن پر تقریباً ایک کروڑ 56 لاکھ روپے ماہانہ خرچ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ مزید 200 گاڑیوں کے کرائے کے اخراجات شامل کیے جائیں تو ذرائع نے مبینہ بے ضابطگی کی مجموعی ماہانہ مالیت تقریباً ایک کروڑ 75 لاکھ روپے بتائی ہے۔ یہ اعداد فی الحال تفتیشی دعوؤں کا حصہ ہیں، حتمی مالی نقصان یا ذمہ داری کا عدالتی یا تفتیشی تعین نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق ایک مبینہ طریقہ کار میں ایک ہی گاڑی کے ساتھ متعدد جعلی نمبر پلیٹس استعمال کرکے مختلف گاڑیوں کے نام پر ایندھن حاصل کرنا شامل تھا۔ الزام ہے کہ بعض پٹرول پمپ ملازمین اور دیگر افراد نے جعلی رجسٹریشن پلیٹس لگانے میں تعاون کیا، جس کے بعد حاصل کیا گیا ایندھن راجباہ روڈ کے قریب ایک ورکشاپ میں نکال لیا جاتا تھا۔
تحقیقات میں یہ الزام بھی دیکھا جا رہا ہے کہ بعض گاڑیوں کے ٹریکنگ آلات دانستہ خراب کیے گئے اور پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کو غیر فعال کیا گیا تاکہ مبینہ سرگرمیوں کا ریکارڈ محفوظ نہ رہے۔ مقامی اینٹی کرپشن حکام دستیاب ریکارڈ، مالی تفصیلات اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا سرکاری فنڈز کا غلط استعمال ہوا اور اگر ہوا تو اس کی ذمہ داری کن افراد پر عائد ہوتی ہے۔
اس مرحلے پر معاملہ انکوائری ہے، ثابت شدہ جرم یا حتمی سرکاری finding نہیں۔ رپورٹ میں کسی نامزد فرد کے خلاف سزا، چارج شیٹ یا عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اسی لیے گاڑیوں کی تعداد، جعلی پلیٹس، ایندھن نکالنے اور ٹریکنگ آلات سے چھیڑ چھاڑ کے نکات کو الزامات اور زیرِتحقیق دعوؤں کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ آیا مقدمہ درج کرنے، رقوم کی وصولی یا محکمانہ کارروائی کی بنیاد بنتی ہے۔
