لاہور: پنجاب حکومت نے آئندہ تین برس میں صوبے کے 10 لاکھ نوجوانوں کو فنی اور پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں جاری اور مجوزہ اسکل ڈویلپمنٹ منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے متعدد نئے اقدامات کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں پنجاب کا پہلا جدید ووڈ ورکنگ سنٹر آف ایکسی لینس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ الیکٹریکل ورک، وہیکل ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبوں میں بھی سنٹرز آف ایکسی لینس قائم کیے جائیں گے۔ زرعی اور بھاری مشینری چلانے والے آپریٹرز کے لیے سرٹیفکیشن پروگرام بھی منظور کیے گئے تاکہ عملی مہارتوں کو باقاعدہ سند کے ساتھ روزگار کی منڈی سے جوڑا جا سکے۔
حکومت نے 13 زبانوں میں کورسز متعارف کرانے کے پروگرام کی بھی منظوری دی ہے۔ صوبے کی پہلی کلیننگ اور کلینر اکیڈمی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جہاں صحت، مہمان نوازی اور گھریلو خدمات کے شعبوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایسی مہارتیں پیدا کرنا ہے جن کی مقامی اور بیرون ملک روزگار کی منڈیوں میں عملی طلب موجود ہو۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں اب تک تقریباً چار لاکھ نوجوان مختلف تربیتی پروگرام مکمل کر چکے ہیں اور ان میں 45 فیصد سے زیادہ نے روزگار حاصل کیا، جبکہ بعض نے مزید تعلیم جاری رکھنے کا انتخاب کیا۔ سرکاری اعداد کے مطابق تربیت یافتہ افراد میں 38 ہزار سے زیادہ نوجوانوں نے بیرون ملک ملازمتیں حاصل کیں۔ مینوفیکچرنگ میں 113,333 افراد نے تربیت مکمل کی، جن میں 50 ہزار سے زیادہ کو فوری روزگار ملا۔
آئی ٹی کے شعبے میں 111,607 نوجوانوں کو تربیت دی گئی جن میں 49,588 روزگار کے ذریعے آمدن حاصل کر رہے ہیں۔ زراعت اور لائیو اسٹاک میں 23,269 افراد نے تربیت مکمل کی اور 10,033 کو ملازمت ملی۔ تعمیرات کے شعبے میں 27,069 تربیت یافتہ افراد میں سے 12,026، جبکہ توانائی کے شعبے میں 35,227 میں سے 15,651 افراد نے روزگار حاصل کیا۔ مہمان نوازی اور سیاحت کے کورسز مکمل کرنے والے 15,319 افراد میں سے 6,807 کو فوری ملازمت ملنے کی اطلاع دی گئی۔
حکام کے مطابق مجموعی طور پر 90,029 تربیت یافتہ نوجوان مقامی صنعتوں میں ملازم ہوئے، 53,509 نے خود روزگاری اختیار کی، 38,557 بیرون ملک ملازمتوں تک پہنچے اور 39,325 نے مزید تعلیم جاری رکھی۔ دیہی خواتین کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام کے تحت تین ہزار خواتین گھر سے آمدن حاصل کر رہی ہیں۔ یہ اعداد حکومت کی جانب سے اجلاس میں پیش کیے گئے ہیں؛ نئے 10 لاکھ افراد کے ہدف کی کامیابی کا انحصار آئندہ تین برس میں تربیت کے معیار، صنعت سے روابط اور روزگار کے حقیقی مواقع پر ہوگا۔
