لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی مسلسل حراست، نورین کی رپورٹ شدہ بیماری اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کی اجازت سے متعلق متعلقہ حکام سے رپورٹس طلب کرلی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جسٹس ابہر گل خان نے سکینہ نیازی اور شہریز کی درخواستوں کی سماعت کے دوران پنجاب کے ہوم سیکرٹری کو حراست میں توسیع کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے جیل حکام سے نورین نیازی کی صحت کے بارے میں رپورٹ بھی مانگی اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات میاں سالک جلال کو ہدایت کی کہ زیرِحراست خواتین کو اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت کے معاملے پر رپورٹ جمع کرائیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو بتایا کہ نورین شدید بیمار ہیں اور انہیں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل کیا گیا تھا۔ انہوں نے طبی صورتحال پر عدالتی مداخلت کی درخواست بھی دائر کی۔
رپورٹ کے مطابق تینوں خواتین کو ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب تحریک انصاف اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر جبکہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 21 ستمبر کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی احکامات 30 روز کے لیے تھے اور بعد میں مزید 30 روز کی توسیع کی گئی۔
درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے 7 اکتوبر کو حراست میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جسے درخواست گزار غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کرانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ زیرِحراست خواتین کو اہل خانہ اور قانونی مشیروں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ درخواست گزاروں کے دعوے ہیں اور عدالت نے ابھی حراست کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کے باہر گفتگو میں گرفتاریوں اور ملاقاتوں کے معاملے پر حکومت اور انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم ان کے بیانات سیاسی مؤقف ہیں۔ موجودہ عدالتی پیش رفت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے متعلقہ انتظامی اور جیل حکام سے تحریری معلومات طلب کی ہیں۔ ان رپورٹس کے بعد عدالت حراست میں توسیع، طبی سہولت اور ملاقاتوں کے بارے میں درخواست گزاروں کے اعتراضات کا مزید جائزہ لے گی۔
