پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے نابالغ سے جنسی زیادتی کے ایک مقدمے میں ملزم کی بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا بحال کر دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق عدالت عالیہ نے استغاثہ کے شواہد، متاثرہ بچے کے بیان، طبی مواد اور ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ بریت کا فیصلہ دستیاب ریکارڈ کے درست قانونی تجزیے پر مبنی نہیں تھا۔

مقدمہ ایک نابالغ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام سے متعلق تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے بعد ملزم کو مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم بعد کے عدالتی مرحلے میں اسے بری کر دیا گیا تھا۔ متاثرہ فریق نے اس بریت کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جہاں اپیل کی سماعت کے دوران گواہی اور دیگر شواہد دوبارہ زیر غور آئے۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس اصول پر زور دیا کہ جنسی جرائم، بالخصوص بچوں کے خلاف جرائم میں متاثرہ شخص کی گواہی کو محض معمولی تضادات یا غیر بنیادی اختلافات کی وجہ سے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی دیکھا کہ آیا بیان کے بنیادی حصے دیگر دستیاب شواہد سے مطابقت رکھتے ہیں اور کیا مجموعی ریکارڈ جرم کے قانونی معیار کو پورا کرتا ہے۔

عدالت نے ماتحت فورم کی جانب سے شواہد کے جائزے میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بریت کو برقرار رکھنے سے انکار کیا۔ نتیجتاً ملزم کے خلاف پہلے سنائی گئی عمر قید کی سزا بحال کر دی گئی۔ یہ فیصلہ اپیل میں عدالتی نتیجہ ہے، نہ کہ محض الزام یا زیر تفتیش دعویٰ، اس لیے اسے عدالت کے باقاعدہ حکم کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات میں عدالتوں کو متاثرہ نابالغ کی عمر، ذہنی کیفیت، واقعے کی نوعیت اور بیان ریکارڈ ہونے کے حالات کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔ ایسے مقدمات میں طبی یا فرانزک شواہد اہم ہو سکتے ہیں، لیکن ہر مقدمے کا فیصلہ اس کے اپنے مجموعی ثبوت اور قابل قبول گواہی پر ہوتا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے بھی اسی تناظر میں دستیاب مواد کا مجموعی جائزہ لیا۔

فیصلے کے بعد عمر قید کی سزا دوبارہ مؤثر ہو گئی ہے، تاہم قانون کے تحت دستیاب مزید اپیلی یا آئینی چارہ جوئی کا حق متعلقہ فریق کے لیے برقرار رہ سکتا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی مزید اعلیٰ عدالتی حکم کی اطلاع نہیں دی گئی، اس لیے موجودہ قانونی حیثیت پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق بیان کی جا رہی ہے۔