اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی ماہانہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 میں ملک بھر میں عسکریت پسند حملوں کی تعداد میں ستمبر کے مقابلے میں 37 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں اکتوبر کے دوران 85 حملوں کا اندراج کیا گیا، جن میں مجموعی طور پر 96 افراد ہلاک اور 147 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار، عام شہری اور عسکریت پسند شامل تھے۔ اعدادوشمار ایک تحقیقی ادارے کی مرتب کردہ نگرانی پر مبنی ہیں اور انہیں سرکاری حتمی مجموعے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ مختلف اداروں کے طریقۂ شمار اور واقعات کی درجہ بندی میں فرق ہو سکتا ہے۔
PICSS کے مطابق اکتوبر میں سب سے زیادہ حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ریکارڈ ہوئے، جہاں ملک میں جاری عسکریت پسندی اور سرحدی سکیورٹی سے متعلق چیلنجز زیادہ نمایاں رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں متعدد عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز جاری رہے۔
ماہ بہ ماہ حملوں کی تعداد میں کمی ایک اہم اشاریہ ہے، لیکن ایک ماہ کے اعدادوشمار کو طویل مدتی رجحان کا قطعی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ سکیورٹی صورتحال کا درست جائزہ لینے کے لیے حملوں کی نوعیت، جغرافیائی پھیلاؤ، ہلاکتوں، زخمیوں اور ریاستی کارروائیوں کے کئی ماہ کے رجحانات کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کے مغربی سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسز مختلف عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت بارہا کہہ چکی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ شہری آبادی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں نے داخلی سلامتی کو بدستور اہم قومی مسئلہ بنا رکھا ہے۔
