اسلام آباد: خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں پولیو وائرس کا ایک نیا کیس رپورٹ ہونے کے بعد پاکستان میں رواں سال تصدیق شدہ پولیو کیسز کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق ان میں چھ کیس خیبرپختونخوا اور دو سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلسل انسدادِ پولیو سرگرمیوں کے باوجود وائرس کی گردش مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
حکام نے تازہ کیس کی اطلاع ایسے وقت دی ہے جب 2 سے 8 نومبر تک ملک کے 97 منتخب اضلاع میں ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے۔ اس مہم میں پانچ سال سے کم عمر دو کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں تک پہنچنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ صحت حکام کے مطابق بار بار ویکسینیشن کا مقصد بچوں کی قوتِ مدافعت مضبوط کرنا اور وائرس کی منتقلی کا سلسلہ روکنا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں بچوں تک رسائی یا مکمل حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول میں خلل کا خطرہ رہتا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے والدین اور سرپرستوں پر زور دیا ہے کہ ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں اور معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا شیڈول بھی بروقت مکمل کریں۔ ادارے کے مطابق پولیو کا کوئی علاج نہیں، تاہم ویکسین کے ذریعے اس بیماری سے بچاؤ ممکن ہے۔
حکام نے مذہبی رہنماؤں، مقامی عمائدین، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ حلقوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں کی معاونت کریں اور ان سماجی یا عملی رکاوٹوں کو کم کرنے میں کردار ادا کریں جو بعض بچوں تک رسائی میں حائل ہوتی ہیں۔ تازہ کیس کسی نئی وبائی لہر کا باضابطہ اعلان نہیں، بلکہ تصدیق شدہ انفیکشن ہے جسے جاری نگرانی اور ویکسینیشن پروگرام کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
رواں سال کیسز کی محدود مگر مسلسل موجودگی انسدادِ پولیو پروگرام کے لیے یہ چیلنج برقرار رکھتی ہے کہ ہر مہم میں ہدف بنائے گئے بچوں تک ویکسین پہنچے۔ حکام کی توجہ خاص طور پر ان علاقوں پر ہے جہاں وائرس کی گردش یا ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔
