اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پولیو وائرس کا ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے، جس کے بعد پاکستان میں سال 2026 کے دوران سامنے آنے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ بزنس ریکارڈر کی 2 نومبر کی رپورٹ کے مطابق تازہ انفیکشن نے ان علاقوں میں وائرس کی مسلسل گردش کے بارے میں تشویش کو دوبارہ نمایاں کیا ہے جہاں انسداد پولیو ٹیمیں بار بار ویکسینیشن مہمات چلا رہی ہیں۔

پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بالخصوص کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل جسمانی معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ بیماری کے خلاف بنیادی دفاع ویکسینیشن ہے، اسی لیے پاکستان میں قومی اور ذیلی قومی سطح پر وقفے وقفے سے گھر گھر مہمات چلائی جاتی ہیں۔ کسی نئے کیس کی تصدیق صرف متاثرہ خاندان تک محدود واقعہ نہیں سمجھی جاتی بلکہ اس سے متعلقہ علاقے میں وائرس کی ترسیل کے امکان کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے۔

تازہ کیس خیبر ضلع سے رپورٹ ہونا اس لیے بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا کے سرحدی اور نقل و حرکت والے علاقوں میں ویکسین ٹیموں کے لیے رسائی، آبادی کی مسلسل آمدورفت اور بعض مقامات پر سکیورٹی جیسے عوامل مہمات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ حکام عموماً انسانی کیسز کے ساتھ ماحولیاتی نمونوں کی نگرانی بھی کرتے ہیں تاکہ سیوریج میں وائرس کی موجودگی اور اس کے جغرافیائی پھیلاؤ کا سراغ لگایا جا سکے۔

سالانہ کیسز کی تعداد میں کمی یا اضافہ انسداد پولیو پروگرام کی کارکردگی کا ایک اہم اشاریہ ہے، تاہم صرف کیسوں کی گنتی وائرس کے پورے پھیلاؤ کی تصویر نہیں دیتی۔ اس لیے صحت حکام کی توجہ بار بار ویکسین کی خوراکیں پہنچانے، رہ جانے والے بچوں تک رسائی اور نگرانی کے نظام کو فعال رکھنے پر مرکوز رہتی ہے۔

تازہ کیس کی رپورٹ کے بعد بنیادی چیلنج یہ ہے کہ متاثرہ اور ملحقہ علاقوں میں ویکسینیشن کوریج کے خلا کو تیزی سے بند کیا جائے۔ اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ملک گیر مہم ناکام ہو گئی ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کی ترسیل مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئی اور مسلسل نگرانی اور ہدفی ویکسینیشن کی ضرورت برقرار ہے۔