کراچی: گلستان جوہر میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے ایک انجینئر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر ڈکیتی کے امکان کو رد کیا ہے، تاہم واقعے کو حتمی طور پر ٹارگٹ کلنگ قرار نہیں دیا گیا اور حملے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

شارع فیصل پولیس کے مطابق 54 سالہ امتیاز احمد اتوار کی دوپہر گلستان جوہر بلاک 13 میں اپنے گھر سے روٹی خریدنے کے لیے نکلے تھے۔ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آور نے ان پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ایک گولی امتیاز احمد کو لگی جبکہ تین گولیاں قریب کھڑی ایک گاڑی پر لگیں۔

زخمی انجینئر کو فوری طور پر ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ بعد ازاں لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔ پولیس نے جائے وقوع سے شواہد جمع کیے ہیں اور مختلف رپورٹوں کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی گئی ہے جسے تفتیش میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول کا موبائل فون، بٹوا اور دیگر ذاتی سامان موقع پر موجود تھا، اس لیے ابتدائی شواہد واقعے کو معمول کی ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نتیجہ ظاہر نہیں کرتے۔ اس کے باوجود پولیس نے واضح کیا ہے کہ حملے کے اصل محرک کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

امتیاز احمد کا تعلق بنیادی طور پر لاہور سے بتایا گیا ہے۔ پولیس نے ان کے بھائی سے رابطہ کیا جو کراچی پہنچ رہے تھے، جبکہ مقتول کی اہلیہ اپنی بیٹی سے ملنے جرمنی میں موجود تھیں۔ حکام کے مطابق خاندان کے بیانات اور دستیاب شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی اور ممکنہ محرکات کی جانچ کی جائے گی۔

واقعے کی رپورٹس میں اسے مشتبہ ٹارگٹڈ حملہ کہا گیا ہے، لیکن یہ پولیس کی ابتدائی تفتیشی سمت ہے، کوئی ثابت شدہ عدالتی نتیجہ نہیں۔ حملہ آور کی شناخت، قتل کا سبب اور کسی ممکنہ ذاتی، پیشہ ورانہ یا دیگر تنازعے سے تعلق فی الحال ثابت نہیں ہوا۔ پولیس کی ذمہ داری ہوگی کہ سی سی ٹی وی، فارنزک شواہد، عینی معلومات اور اہل خانہ کے بیانات کی بنیاد پر ان پہلوؤں کی تصدیق کرے۔

کراچی میں کسی بھی فائرنگ کے واقعے کو اس کے محرک کی مکمل تفتیش سے پہلے مخصوص نوعیت کے جرم سے جوڑنا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ موجودہ طور پر تصدیق شدہ حقائق یہ ہیں کہ پی آئی اے انجینئر امتیاز احمد فائرنگ میں جاں بحق ہوئے، ان کا سامان نہیں چھینا گیا اور نامعلوم حملہ آور موقع سے فرار ہوگیا۔