راولپنڈی: ٹیکسلا پولیس اسٹیشن سے وابستہ ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور دو کانسٹیبلز کے خلاف گنگو چیک پوسٹ پر ایک شہری کی مبینہ تشدد کے بعد موت کے معاملے میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مقدمہ متوفی اکمل علی خان کے چھوٹے بھائی زاہد خان کی شکایت پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت درج ہوا، جبکہ پولیس حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔

شکایت میں اے ایس آئی کاشف اور کانسٹیبلز سہیل اور قدیر پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اکمل کو چیک پوسٹ پر تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی موت کا سبب بنے۔ یہ الزامات ایف آئی آر اور مدعی کے بیان کا حصہ ہیں؛ متعلقہ اہلکاروں کے خلاف جرم کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق چیک پوسٹ کے اندر کی ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں اکمل کو چارپائی پر تشویشناک حالت میں لیٹا دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص زخمی کو پانی دینے کی درخواست کرتا سنائی دیتا ہے، جبکہ ایک دوسری آواز پانی نہ دینے کی بات کرتی ہے۔ فوٹیج واقعے کی تحقیقات میں اہم ثبوت بن سکتی ہے، تاہم اس کے تمام حالات اور وقت کی باضابطہ تصدیق تفتیشی حکام کے ذریعے ہونا باقی ہے۔

مدعی کے مطابق اکمل اپنی گاڑی میں سی این جی بھروانے جا رہا تھا جب پولیس اہلکاروں نے اسے گنگو چیک پوسٹ پر روکا۔ زاہد خان کا دعویٰ ہے کہ اطلاع ملنے پر وہ دیگر افراد کے ساتھ چیک پوسٹ پہنچا اور وہاں اپنے بھائی کو زخمی حالت میں دیکھا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ رہائی کی درخواستوں کے باوجود مبینہ تشدد جاری رہا۔ بعد میں اکمل کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال ٹیکسلا منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹر نے اسے مردہ قرار دیا۔

رپورٹ میں ایک متبادل پس منظر بھی بیان ہوا ہے کہ واقعہ سڑک پر ایک ٹرک اور اکمل کی گاڑی کے آمنے سامنے آنے سے پیدا ہونے والے معمولی تنازع کے بعد بڑھا۔ واقعے کے بعد احتجاج بھی ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس حکام نے اردگرد کے سی سی ٹی وی ریکارڈ حاصل کیے ہیں اور اعلیٰ سطحی انکوائری جاری ہے۔ اس مرحلے پر تین اہلکار مقدمے میں نامزد ملزمان ہیں، مجرم قرار نہیں دیے گئے؛ موت کی ذمہ داری اور واقعے کی مکمل ترتیب تفتیش اور عدالت میں شواہد کی جانچ سے طے ہوگی۔