لاہور: کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پنجاب کے لاہور ہیڈکوارٹر کے قریب ایک نگرانی ڈرون گرنے کے واقعے کے بعد متعلقہ سکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ڈرون حساس سرکاری تنصیب کے قریب گرنے کی وجہ سے حکام نے فوری طور پر علاقے اور برآمد ہونے والے آلے کا جائزہ لیا تاکہ اس کی نوعیت، ملکیت اور پرواز کے مقصد کا تعین کیا جا سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ڈرون کے گرنے سے متعلق یہ بھی فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ آیا اسے کسی سرکاری یا نجی مقصد کے لیے اڑایا جا رہا تھا، یا اس کے حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی، رابطہ منقطع ہونا یا کوئی دوسرا سبب تھا۔ حکام نے انہی امکانات کی جانچ کے لیے آلے کے تکنیکی حصوں اور دستیاب ڈیٹا کا معائنہ شروع کیا ہے۔
حساس سکیورٹی تنصیبات کے اطراف بغیر اجازت ڈرون پرواز ایک اہم حفاظتی معاملہ تصور کی جاتی ہے کیونکہ ایسے آلات تصویری یا ویڈیو نگرانی، مقام کی نقشہ بندی یا دیگر ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھ سکتے ہیں۔ تاہم صرف ڈرون کی موجودگی سے کسی جاسوسی، دہشت گردی یا مجرمانہ مقصد کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا، اور دستیاب رپورٹ میں بھی ایسے کسی مقصد کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی۔
تحقیقاتی عمل میں ڈرون کے ماڈل، سیریل یا شناختی معلومات، ممکنہ کنٹرولر، میموری اور پرواز سے متعلق ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ اہم ہو سکتی ہے۔ اگر آلہ کسی رجسٹرڈ یا مجاز آپریٹر سے منسلک ہوا تو حکام اس کے اجازت نامے اور پرواز کے دائرہ کار کی تصدیق کر سکیں گے۔ دوسری صورت میں اس کے ماخذ کا تعین مزید تکنیکی اور انتظامی چھان بین پر منحصر ہوگا۔
سی ٹی ڈی دہشت گردی سے متعلق تحقیقات اور کارروائیوں کا ذمہ دار صوبائی ادارہ ہے، اس لیے اس کے ہیڈکوارٹر کے قریب کسی غیر واضح فضائی آلے کی موجودگی کو معمول کے حادثے کے بجائے سکیورٹی نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود واقعے کی نوعیت کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام نے واقعے سے متعلق شواہد محفوظ کر لیے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ مزید تفصیلات، بشمول ڈرون کی ملکیت، اس کی پرواز کس مقام سے شروع ہوئی اور آیا کسی قانونی خلاف ورزی کا ارتکاب ہوا، تحقیقاتی نتائج سامنے آنے کے بعد واضح ہوں گی۔
