راولپنڈی: راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے شہر میں سڑکوں اور بنیادی شہری انفراسٹرکچر کی مرمت و بحالی کے لیے تقریباً 6 کروڑ 89 لاکھ 84 ہزار روپے مالیت کی نئی اسکیم تیار کی ہے۔ ڈان کے مطابق شہری ادارے نے گزشتہ تقریباً ایک سال کے دوران اپنی توجہ 47 ارب روپے کے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے پر مرکوز رکھی اور اس مدت میں سڑکوں کی بحالی کے لیے کوئی نیا بڑا ترقیاتی کام شروع نہیں کیا گیا تھا۔

آر ڈی اے کے ایک سینئر افسر کے مطابق نئی مجوزہ اسکیم کا عنوان مختلف شہری سڑکوں پر سڑکوں، فٹ پاتھوں، برساتی پانی کی نکاسی کے نالوں، مین ہولز اور روڈ مارکنگ کی بحالی اور مرمت سے متعلق فریم ورک معاہدہ ہے۔ اس کے تحت شہر کے مختلف حصوں میں خراب سڑکوں اور پیدل چلنے والوں کے راستوں کی مرمت کے ساتھ نکاسی آب کی سہولت بہتر بنانے اور سڑکوں پر ضروری نشانات بحال کرنے کا کام شامل ہوگا۔

منصوبے کی تخمینی لاگت 68,983,836 روپے بتائی گئی ہے، جس میں قابل اطلاق ٹیکس شامل ہیں۔ کام مکمل کرنے کے لیے 12 ماہ کی مدت تجویز کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرمت کا مقصد ٹریفک کی روانی بہتر بنانا، پیدل چلنے والوں کے لیے سہولت پیدا کرنا اور بارش کے پانی کی مؤثر نکاسی کے لیے شہری ڈرینج انفراسٹرکچر کو قابل استعمال حالت میں رکھنا ہے۔

آر ڈی اے نے ان سڑکوں کی نشاندہی کے لیے سروے بھی شروع کر دیا ہے جنہیں ترجیحی بنیاد پر بحالی کی ضرورت ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اولڈ ایئرپورٹ روڈ اور راول روڈ ترجیحی فہرست میں اوپر رہیں گی کیونکہ ان دونوں مقامات پر بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت بتائی گئی ہے۔ حتمی فہرست سروے اور سرکاری منظوری کے بعد طے ہوگی۔

اس سے پہلے آر ڈی اے نے مری روڈ کو کمیٹی چوک سے چاندنی چوک تک وسیع کرنے اور فیض آباد سے مریڑ چوک تک مری روڈ کی مرمت سمیت کئی منصوبے تجویز کیے تھے، لیکن پنجاب حکومت نے ان دو اہم منصوبوں کی منظوری نہیں دی۔ چوہدری بوستان خان روڈ کی بحالی کا منصوبہ بھی آر ڈی اے نے تیار کیا تھا مگر بعد میں اس تعمیراتی کام کی ذمہ داری پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کو دے دی گئی۔ شمس آباد میں آئی جے پرنسپل روڈ اور ڈبل روڈ کو ملانے کے لیے انڈر پاس کی تجویز بھی منظور نہیں ہو سکی تھی۔

آر ڈی اے کے ترجمان محمد عرفان نے تصدیق کی ہے کہ ادارہ نئی روڈ ڈیولپمنٹ اسکیم شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم منصوبہ ابھی عملدرآمد کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔ اسے پہلے پنجاب حکومت کو حتمی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا اور منظوری ملنے کے بعد پی سی ون تیار کیا جائے گا۔ اس لیے موجودہ رقم، مدت اور کام کا دائرہ مجوزہ منصوبہ جاتی تفصیلات ہیں، نہ کہ مکمل طور پر منظور شدہ تعمیراتی معاہدہ۔