کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے کے حق میں سڑکوں پر سیاسی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس سلسلے میں 29 نومبر کو کراچی کی شارع فیصل پر ایک بڑی ریلی منعقد کی جائے گی، جسے پارٹی اپنے مطالبے کے لیے عوامی مہم کا آغاز قرار دے رہی ہے۔

ڈان کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری ضروریات کے پیش نظر موجودہ صوبائی و انتظامی ڈھانچے پر دوبارہ غور ضروری ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے معاملے پر عوامی رائے معلوم کرنے کے لیے ریفرنڈم کا مطالبہ بھی کیا۔ یہ سیاسی مطالبہ ہے اور اس پر کسی آئینی یا حکومتی فیصلے کا اعلان نہیں ہوا۔

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام آئینی اور سیاسی طور پر پیچیدہ عمل ہے۔ آئین کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے پارلیمان میں آئینی ترمیم کے ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مطلوبہ اکثریت سے منظوری بھی ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے کسی جماعت کی عوامی تحریک یا ریلی بذات خود نیا صوبہ یا انتظامی یونٹ قائم نہیں کر سکتی، البتہ یہ سیاسی دباؤ اور عوامی بحث کو بڑھا سکتی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان طویل عرصے سے شہری سندھ، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد، میں انتظامی اختیارات، مقامی حکومتوں اور وسائل کی تقسیم سے متعلق مطالبات کرتی رہی ہے۔ موجودہ اعلان میں پارٹی نے اس بحث کو وسیع کرتے ہوئے ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے حکمرانی اور شہری خدمات بہتر ہو سکتی ہیں۔

اس معاملے پر دیگر سیاسی جماعتوں کے مؤقف مختلف رہے ہیں۔ بعض جماعتیں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کی حمایت کرتی ہیں، جبکہ دیگر لسانی، تاریخی، مالی اور سیاسی اثرات کے باعث محتاط یا مخالف مؤقف رکھتی ہیں۔ سندھ میں نئے صوبے یا انتظامی تقسیم کا سوال خاص طور پر حساس سیاسی موضوع رہا ہے، اس لیے ایم کیو ایم کے نئے اعلان پر صوبائی سیاست میں ردعمل متوقع ہے۔

پارٹی نے 29 نومبر کی شارع فیصل ریلی کو اپنی مہم کا اہم مرحلہ قرار دیا ہے۔ کراچی کی یہ مرکزی شاہراہ بڑے سیاسی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، تاہم ریلی کے حتمی انتظامات، اجازت اور ٹریفک پلان سے متعلق تفصیلات متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے الگ جاری کی جا سکتی ہیں۔

فی الحال ایم کیو ایم پاکستان نے سیاسی تحریک اور ریفرنڈم کا مطالبہ پیش کیا ہے؛ وفاقی حکومت یا پارلیمان کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے کسی مخصوص آئینی ترمیم یا باضابطہ عمل کی تصدیق نہیں ہوئی۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار دیگر جماعتوں کے ردعمل، پارلیمانی حمایت اور ایم کیو ایم کی عوامی مہم کے دائرہ کار پر ہوگا۔