جنوبی وزیرستان: لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ انگور اڈہ کے قریب افغان سرحدی پوسٹوں سے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی اور متعدد سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنوں اور دفاعی مقامات کو نشانہ بنایا۔ یہ بیان یکم نومبر کو جاری کیا گیا، جب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر حالیہ ہفتوں میں کشیدگی برقرار تھی۔
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان کے مطابق پاکستانی فورسز نے فائرنگ کا فوری جواب دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شدید جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان کے اہلکار بعض پوسٹیں چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق دستیاب نہیں تھی، اس لیے اسے پاکستانی ضلعی انتظامیہ کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پاکستانی سرحدی علاقوں میں اس تازہ تبادلے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب اس مخصوص واقعے کے بارے میں افغان حکام کا تفصیلی مؤقف رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
انگور اڈہ پاک افغان سرحد کا حساس مقام ہے اور اس علاقے میں حالیہ دنوں کے دوران بھی جھڑپیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ ایک پہلے واقعے میں ایک شخص ہلاک اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔ پاکستانی فوج نے اس وقت بھی افغان جانب سے حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی اطلاع دی تھی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تناؤ کا بڑا پس منظر دہشت گردی اور سرحد پار عسکریت پسندی کے الزامات ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سمیت مسلح گروہ افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور پاکستان میں عسکریت پسندی کو داخلی مسئلہ قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف ادوار میں مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششیں بھی ہوئی ہیں، تاہم سیکیورٹی سے متعلق بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔
تازہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ مقامی سطح کی سرحدی فائرنگ تیزی سے وسیع کشیدگی میں بدل سکتی ہے۔ دستیاب معلومات میں پاکستانی جانب کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ افغان پوسٹوں کو پہنچنے والے نقصان اور اہلکاروں کے پیچھے ہٹنے سے متعلق تفصیل پاکستانی ضلعی انتظامیہ کے دعوے پر مبنی ہے۔

