اسلام آباد: وفاقی حکومت نے انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل (سی) میجر جنرل فیصل نصیر کا نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) میں تبادلہ کر دیا ہے۔ ڈان کی 5 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت جمعہ کو سامنے آئی اور اسے ملک کے داخلی سلامتی کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں ایک اہم انتظامی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نیکٹا وفاقی سطح پر انسداد دہشت گردی کی پالیسی، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور شدت پسندی و دہشت گردی سے متعلق حکمت عملی کے لیے قائم ادارہ ہے۔ ایسے وقت میں جب بلوچستان اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، نیکٹا میں ایک سینئر فوجی افسر کی تعیناتی داخلی سلامتی سے متعلق ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔
ڈان نے اس تبدیلی کو حکومت کی جانب سے کیا گیا تبادلہ قرار دیا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں اس تقرری یا تبادلے کے پس منظر میں کسی مخصوص آپریشن، تحقیقات یا پالیسی اختلاف کو وجہ قرار نہیں دیا گیا، اس لیے اس بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔ خبر کی تصدیق اسی حد تک کی جا سکتی ہے کہ میجر جنرل فیصل نصیر کو آئی ایس آئی کے داخلی امور سے متعلق ذمہ داری سے نیکٹا منتقل کیا گیا ہے۔
پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے انتظامی نظام میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور مسلح افواج سمیت متعدد ادارے کردار ادا کرتے ہیں۔ نیکٹا کا بنیادی ادارہ جاتی مقصد ان مختلف فریقوں کے درمیان معلومات اور پالیسی کے ربط کو بہتر بنانا ہے۔ نئی ذمہ داری میں میجر جنرل فیصل نصیر کے کردار کی عملی نوعیت اور دائرۂ کار سرکاری احکامات اور نیکٹا کے انتظامی بندوبست کے مطابق واضح ہوگا۔
یہ تبادلہ ایک ایسے مرحلے پر سامنے آیا ہے جب قومی سلامتی کے معاملات پر ریاستی اداروں کے درمیان رابطہ کاری مسلسل اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ آئندہ دنوں میں حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے اگر ذمہ داریوں، عہدے یا پالیسی ترجیحات کے بارے میں مزید سرکاری تفصیل جاری کی جاتی ہے تو اس سے اس تبدیلی کے انتظامی اثرات زیادہ واضح ہوں گے۔




