اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا انتظام ہے جس کا مقصد علاقائی سلامتی کو مضبوط کرنا اور مشترکہ ڈیٹرنس پیدا کرنا ہے، جبکہ فی الحال اتحاد کی توسیع زیر غور نہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے 10 ستمبر کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ تینوں رکن ممالک پہلے موجودہ تعاون اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق معاہدہ ابھی تشکیل کے ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے ڈھانچے، طریقہ کار اور عملی میکانزم سے متعلق تفصیلی مشاورت ہونا باقی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مستقبل میں توسیع کے بارے میں فیصلہ بعد کے مرحلے پر کیا جا سکتا ہے، تاہم اس وقت اس موضوع پر بات چیت نہیں ہو رہی۔
مکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو دستخط ہوئے تھے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام اراکین کے خلاف حملہ تصور کیا جائے۔ اتحاد کا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا، جہاں سعودی عرب میں سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ابتدائی تین سال کے لیے سیکریٹری جنرل پاکستان سے مقرر کیے جانے کا بھی فیصلہ سامنے آیا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ رکن ممالک مختلف سطحوں پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں اور آئندہ اجلاسوں کے وقت سے متعلق معلومات دستیاب ہونے پر جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے اس تاثر سے گریز کیا کہ اتحاد کی فوری توسیع طے شدہ ہے اور واضح کیا کہ پہلے موجودہ تین ملکی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینا ضروری ہے۔
اسی بریفنگ میں دفتر خارجہ نے بھارت میں مسلم عبادت گاہوں کی مسماری سے متعلق بھی تشویش ظاہر کی اور عالمی برادری سے توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ ترجمان نے اتر پردیش میں ایک مسجد کی حالیہ مسماری کا حوالہ دیتے ہوئے اسے مذہبی مقامات کے تحفظ سے متعلق ذمہ داریوں کے منافی قرار دیا۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ بھارت کی جانب سے ان مخصوص الزامات پر جواب اس رپورٹ کے دستیاب متن میں شامل نہیں تھا۔
دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے رہنما یاسین ملک کے مقدمے اور صحت کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان کے بیانات پاکستان کی سرکاری پوزیشن کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ متعلقہ عدالتی کارروائی اور الزامات کو حتمی عدالتی نتائج سے الگ سمجھا جانا ضروری ہے۔




