اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اگر یمن میں جاری تنازع سعودی عرب کی سرزمین تک پھیلتا ہے اور سعودی عرب کو جارحیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہی۔

خواجہ آصف کے مطابق یہ معاہدہ اجتماعی دفاع کی نوعیت رکھتا ہے اور اس کے تحت کسی ایک رکن کے خلاف جارحیت کو تینوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جا سکتا ہے۔ ان کا بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن سے متعلق سلامتی کے خدشات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

وزیر دفاع کی گفتگو ایک سیاسی و دفاعی وضاحت ہے؛ اسے کسی نئی فوجی کارروائی کے اعلان یا پاکستان کی افواج کی تعیناتی کی تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص آپریشن، دستوں کی نقل و حرکت یا فوری عسکری مداخلت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بنیادی نکتہ معاہدے کے ممکنہ اطلاق اور اس کی اجتماعی دفاعی نوعیت سے متعلق تھا۔

مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کی سلامتی کے سوال کو نمایاں کیا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے وزیر دفاع کا بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اسلام آباد اپنے دفاعی وعدوں کو معاہداتی فریم ورک کے اندر دیکھ رہا ہے، تاہم کسی بھی عملی اقدام کی نوعیت حالات، سرکاری فیصلوں اور معاہدے کی متعلقہ شقوں کے اطلاق پر منحصر ہوگی۔

پاکستان کے سعودی عرب اور ترکی دونوں کے ساتھ دیرینہ دفاعی اور سفارتی تعلقات ہیں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں وزیر دفاع کی وضاحت اس سہ فریقی تعاون کے سلامتی پہلو کو سامنے لاتی ہے، خصوصاً ایسی صورت میں جب کسی رکن ملک کی سرزمین کو براہ راست بیرونی جارحیت کا سامنا ہو۔

خواجہ آصف کے بیان کے بعد اہم فرق یہ ہے کہ معاہدے کا ممکنہ فعال ہونا ایک مشروط صورتحال سے جوڑا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ معاہدہ پہلے ہی کسی مخصوص جنگی کارروائی کے لیے استعمال ہو چکا ہے۔ اس لیے موجودہ خبر کو پاکستان کی جانب سے معاہدے کی تشریح اور ممکنہ دفاعی ذمہ داری کے بیان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی تصدیق شدہ نئے فوجی آپریشن کے طور پر۔