اسلام آباد: پاکستان نیوی کے دو اہلکار سمندر میں سکیورٹی گشت کی ذمہ داری انجام دیتے ہوئے شہید ہوگئے۔ پاک بحریہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز کے مطابق شہید ہونے والوں میں شعیب الرحمان اور غفران ناصر شامل ہیں۔

بحریہ کے بیان میں کہا گیا کہ شعیب الرحمان، جن کا عہدہ پی ایم اے فور بتایا گیا، اور غفران ناصر، پی ایم ٹی ٹو، سمندری حدود میں سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے گشت کی ڈیوٹی پر مامور تھے جب انہوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ بیان میں واقعے کی نوعیت یا مقام کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے دونوں اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ پاک بحریہ کے مطابق سینئر افسران نے شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت کی۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نیوی خطے میں بدلتی ہوئی سمندری سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں تجارتی جہاز رانی اور اہم بحری راستوں کے تحفظ کے لیے اضافی نگرانی کر رہی ہے۔ مارچ 2026 میں پاک بحریہ نے آپریشن محافظ البحر شروع کیا تھا، جس کا مقصد قومی جہاز رانی اور سمندری تجارت کو مختلف نوعیت کے خطرات سے محفوظ رکھنا بتایا گیا تھا۔

بحریہ نے آپریشن کے آغاز کے وقت کہا تھا کہ خطے کی سکیورٹی صورتحال اور اہم سمندری گزرگاہوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث قومی سطح پر حفاظتی اقدامات ضروری ہوگئے ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہوتی ہے، اس لیے بندرگاہوں اور بحری تجارتی راستوں کی حفاظت ملکی معیشت اور رسد کے نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

حکام نے دونوں اہلکاروں کی شہادت کے پس منظر میں کسی حملے، حادثے یا دوسری مخصوص وجہ کی تصدیق نہیں کی، اس لیے واقعے کے بارے میں دستیاب معلومات کو پاک بحریہ کے جاری کردہ بیان تک محدود رکھا جا رہا ہے۔ مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے کی صورت میں واقعے کی نوعیت واضح ہوسکے گی۔