بلوچستان کے ضلع کیچ میں مند کے ریڈیحو بارڈر پر واقع پاکستان کسٹمز اسٹیشن کو 21 ستمبر 2026 کی رات مسلح افراد نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کسٹمز اہلکار سپاہی محمد سراج زخمی ہوئے۔ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے ذریعے جاری پاکستان کسٹمز کے بیان کے مطابق حملہ تقریباً رات ساڑھے آٹھ بجے ہوا، جب متعدد نامعلوم مسلح افراد نے اسٹیشن پر دھاوا بولا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور چار کمروں پر مشتمل کسٹمز اسٹیشن میں داخل ہوئے، دفتر کا دروازہ توڑا، عمارت کے بعض حصوں کو آگ لگائی اور مختلف سمتوں میں فائرنگ کی۔ سپاہی محمد سراج کے دائیں بازو میں دو گولیاں لگنے کی اطلاع دی گئی۔ قریبی فرنٹیئر کور 165 ونگ نے ردعمل دیا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حکام کے مطابق اس مرحلے تک کسی اضافی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
پاکستان کسٹمز نے ابتدائی معلومات کی بنیاد پر کہا کہ واقعہ ان دھمکیوں سے جڑا ہو سکتا ہے جو حالیہ نفاذی کارروائیوں کے بعد کسٹمز عملے کو موصول ہوئی تھیں۔ ان کارروائیوں میں تربت جانے والے بعض ایل پی جی باؤزرز کو واجب الادا ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی ادائیگی تک روکنا اور مقامی اشیا و خراب ہونے والی خوراک کی نقل و حرکت سے متعلق کسٹمز ضوابط پر عملدرآمد شامل تھا۔ تاہم حملے کے حتمی محرک کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔
سرکاری بیان میں حملہ آوروں کے بارے میں کالعدم بی ایل اے سے ممکنہ وابستگی کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا، مگر ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ یہ تعلق اس مرحلے پر آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا۔ اس لیے کسی گروہ کی ذمہ داری کو حتمی حقیقت کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ حملہ آوروں کی شناخت، ان کے روابط اور واقعے کی مکمل نوعیت متعلقہ تحقیقات سے واضح ہوگی۔
زخمی کسٹمز اہلکار کو ابتدا میں ڈی ایچ کیو اسپتال تربت منتقل کیا گیا اور بعد میں مزید علاج کے لیے کراچی ریفر کیا گیا۔ پاکستان کسٹمز نے کہا کہ وہ فرنٹیئر کور اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ سکیورٹی اور اسمگلنگ کے خلاف نفاذی اقدامات کے لیے رابطے میں ہے۔ واقعے سے متعلق کسی گرفتاری یا مقدمے کے حتمی نتیجے کی تفصیل سرکاری بیان میں موجود نہیں۔

