مانسہرہ: خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت بڑھنے اور بارش کے باعث برفانی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب، یعنی گلاف، اور اچانک سیلاب کے خدشے پر مانسہرہ اور اپر کوہستان کی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات سخت کردیے ہیں۔ ڈان کے مطابق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی تنبیہ کے بعد مانسہرہ میں تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا اور دریاؤں و ندی نالوں کے کنارے رہنے والے لوگوں کو صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
مانسہرہ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر برائے ریلیف و انسانی حقوق اسد محمود لودھی نے اجلاس میں کہا کہ رواں ہفتے بلند درجہ حرارت اور بارش کے باعث گلاف کے واقعات کا خدشہ ہے، اس لیے ضلعی ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ ان کے مطابق کاغان اور سیرن وادیوں سمیت بلند علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے سے پانی کے بہاؤ میں تیزی اور اچانک سیلاب کا امکان ہے۔ دریا کنارے رہنے والے خاندانوں کو ضرورت پڑنے پر قریبی محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا۔ یہ پیشگی خطرے کی تنبیہ ہے؛ رپورٹ میں کسی تازہ گلاف واقعے یا نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ریسکیو 1122 اور تحصیل انتظامیہ کو بھی اسٹینڈ بائی رہنے کی ہدایت دی گئی تاکہ خراب موسم، گلاف یا سیلابی ریلے کی صورت میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ ضلعی سطح پر محکموں کی تیاری کا مقصد بروقت اطلاع، ممکنہ انخلا اور امدادی کارروائی کو منظم رکھنا ہے۔ شہریوں کو دریا، ندی نالوں اور تیز بہاؤ والے مقامات سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
اپر کوہستان کی ضلعی انتظامیہ نے پہاڑی علاقوں کے لیے ایک ہفتے کی تنبیہ جاری کی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق محکمہ موسمیات کی معلومات کی بنیاد پر بارش اور گلاف کے باعث پانی کی سطح بڑھنے اور سیلاب کا مستقل خطرہ موجود ہے۔ خاندانوں کو دریا اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز، اچانک بہاؤ کے لیے چوکس رہنے اور مویشیوں کو 4 ستمبر تک بلند مقامات پر منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا، کیونکہ اس مدت میں پہاڑی حصوں میں درجہ حرارت بڑھنے کی توقع ہے۔
الرٹ کا عملی مطلب خطرہ کم ہونے تک احتیاط اور ادارہ جاتی تیاری ہے، نہ کہ یہ دعویٰ کہ ہر علاقے میں لازماً سیلاب آئے گا۔ اگلی قابل تصدیق معلومات پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، محکمہ موسمیات یا ریسکیو اداروں کی تازہ ہدایات ہوں گی۔ مقامی آبادی کو غیر مصدقہ سوشل میڈیا پیغامات کے بجائے سرکاری انتباہات اور انخلا کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




