اسلام آباد: میڈیکل ٹریبونل نے لاہور کے لیڈی ولنگڈن اسپتال کے آپریشن تھیٹر ویڈیو معاملے میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے دو سال کے لیے طبی رجسٹریشن معطل کیے جانے والے دو پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کو اپنی تربیت جاری رکھنے اور آئندہ حتمی امتحانات میں شرکت کی عبوری اجازت دے دی ہے۔ یہ ریلیف ان کی اپیلوں کے حتمی فیصلے تک محدود ہے۔

ریٹائرڈ جسٹس صفدر سلیم شاہد کی سربراہی میں تین رکنی ٹریبونل نے ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور اور ڈاکٹر محمد عیسیٰ کی درخواستوں پر یکساں عبوری احکامات جاری کیے۔ ٹریبونل نے 28 جولائی 2026 کے پی ایم ڈی سی کے تادیبی حکم پر صرف اتنی حد تک عمل درآمد روکا ہے جتنی دونوں ڈاکٹروں کو پوسٹ گریجویٹ تعلیمی اور تربیتی پروگرام جاری رکھنے، مکمل کرنے اور حتمی امتحانات میں بیٹھنے کے لیے ضروری ہے۔

ٹریبونل نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر پی ایم ڈی سی کی تادیبی کارروائی کے نتائج ختم نہیں کیے گئے اور نہ ہی ڈاکٹروں کا غیر مشروط طبی پریکٹس لائسنس بحال کیا گیا ہے۔ عبوری انتظام اپیلوں کے حتمی نتیجے سے مشروط ہے اور اسے آزادانہ کلینیکل پریکٹس کی اجازت یا تادیبی فیصلے کے میرٹ پر حتمی عدالتی رائے نہیں سمجھا جائے گا۔

دونوں ڈاکٹر ان پانچ پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں میں شامل تھے جن کے خلاف لیڈی ولنگڈن اسپتال میں ایک طبی عمل کے دوران بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد کارروائی ہوئی۔ اپریل میں پی ایم ڈی سی نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور، ڈاکٹر زینب طاہر، ڈاکٹر محمد عیسیٰ، ڈاکٹر عائشہ افضل اور ڈاکٹر ماہم امین ابتدائی کارروائی میں پیش ہوئے، جس کے بعد معاملہ حتمی تعین کے لیے ڈسپلنری کمیٹی کو بھیجا گیا۔

بعد کی تادیبی کارروائی میں اپیل کنندگان کے میڈیکل رجسٹریشن لائسنس دو سال کے لیے معطل کیے گئے۔ اب یہ فیصلہ میڈیکل ٹریبونل میں چیلنج ہے۔ تازہ احکامات صرف عبوری ریلیف کی درخواستوں سے متعلق ہیں اور اصل اپیلوں کے قانونی و واقعاتی میرٹ کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

ٹریبونل نے اپنے حکم میں تعلیمی پروگرام جاری رکھنے اور آزادانہ طبی پریکٹس کے درمیان واضح فرق کیا۔ وکلا نے بتایا کہ دونوں ڈاکٹر اپنی مقررہ پوسٹ گریجویٹ تربیت کا بڑا حصہ مکمل کر چکے ہیں اور متعلقہ درمیانی امتحانی مرحلہ بھی پاس کر چکے ہیں، جبکہ حتمی امتحانات تقریباً چار ماہ بعد متوقع ہیں۔ ٹریبونل نے کہا کہ اگر انہیں باقی تعلیمی حصہ مکمل کرنے سے روک دیا گیا اور امتحان کا موقع ضائع ہوا تو بعد میں اپیل منظور ہونے کی صورت میں بھی یہ تعلیمی نقصان مکمل طور پر واپس نہیں ہو سکے گا۔

اسی بنیاد پر ٹریبونل نے محدود عبوری تحفظ دیا، لیکن یہ بھی واضح رکھا کہ اس سے تادیبی کارروائی کی قانونی حیثیت طے نہیں ہوتی اور نہ ہی اپیل کے دوران غیر مشروط پریکٹس کا حق ملتا ہے۔ دونوں مقدمات اب میڈیکل ٹریبونل کے سامنے اپنے میرٹ پر آگے بڑھیں گے۔