میٹا پلیٹ فارمز نے بچوں کو فیس بک اور انسٹاگرام کا عادی بنانے کے الزامات سے متعلق امریکا کی تقریباً تمام ریاستوں کے ساتھ بڑے تصفیے پر اتفاق کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق کمپنی کو 18 ارب ڈالر تک ادا کرنا پڑسکتے ہیں، جبکہ نوجوان صارفین کے لیے دونوں پلیٹ فارمز کے استعمال پر سخت پابندیاں اور نئے حفاظتی انتظامات متعارف کرائے جائیں گے۔

بدھ کو اعلان کیے گئے معاہدوں کے بعد میٹا کے خلاف وفاقی سطح پر جاری مقدمے کی کارروائی ختم ہوگئی۔ مقدمے میں الزام تھا کہ کمپنی نے اپنی سوشل میڈیا مصنوعات کو بچوں کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنے اور عادت پیدا کرنے کے انداز میں ڈیزائن کیا، اور پلیٹ فارمز کی حفاظت کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا۔ یہ مقدمے کے الزامات ہیں؛ تصفیہ بذات خود ہر الزام پر عدالتی جرم یا ذمہ داری کا حتمی فیصلہ نہیں۔

کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی سمیت چار ریاستیں میٹا سے تقریباً 200 ارب ڈالر تک سول جرمانے طلب کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ تصفیے کی ممکنہ 18 ارب ڈالر رقم اس مطالبے سے کم ہے، لیکن یہ پھر بھی سوشل میڈیا صنعت کے بڑے قانونی معاہدوں میں شمار ہوسکتی ہے۔ حتمی ادائیگی، تقسیم اور مدت کی مکمل تفصیل رپورٹ میں شامل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق معاہدہ میٹا کے بنیادی کاروباری ماڈل کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کرے گا، تاہم نوجوان صارفین کو فیس بک اور انسٹاگرام فراہم کرنے کے طریقے میں نمایاں تبدیلیوں کا راستہ کھولے گا۔ ممکنہ پابندیوں کی عمر، والدین کی منظوری، وقت کی حد اور فیچر کنٹرول سے متعلق مکمل عملی قواعد الگ دستاویزات میں واضح ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصفیہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دائر ہزاروں دوسرے مقدمات کے حل کے لیے مثال بن سکتا ہے۔ دنیا کے مختلف ملک بچوں کو نقصان دہ مواد اور ضرورت سے زیادہ استعمال سے بچانے کے لیے قواعد سخت کر رہے ہیں۔ رپورٹ نے آسٹریلیا کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا حوالہ بھی دیا۔

کولوراڈو کے اٹارنی جنرل فل ویزر نے کہا کہ مقدمے کا مقصد بچوں کا تحفظ تھا اور معاہدے میں حاصل مراعات اہم ہیں۔ آئندہ قابل تصدیق مرحلہ عدالت یا متعلقہ ریاستوں کی جانب سے حتمی منظوری، ادائیگی کا شیڈول اور نوجوانوں کے اکاؤنٹس پر نافذ ہونے والی مخصوص تبدیلیاں ہوں گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک